پاکستان ۱ جولائی ۲۰۲۶

سپریم کورٹ زبانی ہبہ ثابت کیے بغیر خواتین کو وراثت سے محروم نہیں کیا جا سکتا

اسلام آباد (ویب نیوز) سپریم کورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ زبانی ہبہ کے ذریعے خواتین کے وراثتی حقوق ختم کرنے کا دعویٰ کرنے والے فریق پر لازم ہے کہ وہ ہبہ کی پیشکش، قبولیت اور قبضے کی حوالگی سمیت تمام قانونی تقاضے آزاد اور قابلِ اعتماد شواہد سے ثابت کرے۔ عدالت نے واضح کیا کہ محض ریونیو میوٹیشن، طویل قبضہ یا بعد کی ریونیو کارروائیاں ملکیت یا ہبہ کا ثبوت نہیں بنتیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ خواتین کو جعلی ہبوں، فرضی دستاویزات یا تکنیکی اعتراضات کی بنیاد پر وراثت سے محروم نہیں کیا جا سکتا، جبکہ ریاست، عدالتیں اور ریونیو حکام خواتین کے قانونی اور شرعی حقوق کے تحفظ کے پابند ہیں۔