کاروبار ۹ مئی ۲۰۲۶

آئی ایم ایف بورڈ کی پاکستان کے لیے 1.32 ارب ڈالر کی قسط کی منظوری

اسلام آباد( ویب ڈیسک)بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)کے ایگزیکٹو بورڈ نے اپنے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف)اور لچک اور پائیداری کی سہولت (آر ایس ایف)پروگراموں کے تحت پاکستان کے لئے 1.32 بلین ڈالر کی فنانسنگ کی منظوری دے دی ہے۔ہفتہ کی رات گئے یہاں موصولہ اعلامیہ کے مطابق آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف)کے تحت توسیعی انتظامات کا تیسرا جائزہ اور لچک اور پائیداری کی سہولت (ارایس ایف )کے تحت انتظامات کا دوسرا جائزہ مکمل کیا جس کے بعد بالترتیب 1.1 ارب ڈالر اور تقریبا 220 ملین امریکی ڈالر کے مساوی فناسنگ کی منظوری دی۔ان انتظامات کے تحت کل ادائیگی تقریبا 4.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ مشرق وسطی کی جنگ کے باوجود پاکستان کے مستحکم اقدامات سے معاشی استحکام برقرار ہے اور مالیاتی حالات میں بہتری آئی ہے۔پاکستان کے اقدامات مشرق وسطی کی جنگ کے مسائل کے بعد پائیدار طویل مدتی ترقی کے حصول کے لیے لچک پیدا کرنے اور ساختی اصلاحات کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے مضبوط پالیسیوں کو برقرار رکھنے کی مسلسل اہمیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی توجہ پالیسی ترجیحات کے تحت معاشی استحکام کو برقرار رکھنے اور عوامی مالیات کو مضبوط کرنے، مسابقت ، پیداواری صلاحیت اور مسابقت ، سماجی تحفظ کے نیٹ ورک اور انسانی وسائل می ترقی کے فروغ ،حکومتی اداروں میں اصلاحات اور عوامی خدمات کی فراہمی اور توانائی کے شعبے کی عملداری کو بہتر بنانے کے لیے اصلاحات کو آگے بڑھانے پر مرکوز ہیں۔ رواں مالی سال میں پاکستان کی مالیاتی کارکردگی مضبوط رہی ہے، اہداف کے مطابق مالی سال 26 -2025میں جی ڈی پی کے 1.6 فیصد کے بنیادی سرپلس کے حصول کی توقع ہے۔مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ اجناس کی عالمی قیمتیں بڑھی ہیں۔ دسمبر کے آخر میں زر مبادلہ کے مجموعی ذخائر 16 ارب ڈالر تھے جو جون 2025 کے آخر میں 14.5 بلین ڈالر سے زیادہ تھے جن میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کے 37 ماہ کے ای ایف ایف انتظامات کی منظوری 25 ستمبر 2024 کو دی گئی تھی اور اس کا مقصد لچک پیدا کرنا اور پائیدار ترقی کو ممکن بنانا ہے۔ 28 ماہ کے آر ایس ایف انتظام کو 9 مئی 2025 کو منظور کیا گیا تھا اور یہ قدرتی آفات کے خطرات کو کم کرنے ، اقتصادی اور موسمیاتی لچک پیدا کرنے کے لیے ملک کی کوششوں کی حمایت کر رہا ہے۔پاکستان کی کلیدی ترجیحات میں مضبوط میکرو پالیسیوں کے مسلسل نفاذ کے ذریعے میکرو اکنامک استحکام کو فروغ دینا، بشمول بین الاقوامی ریزرو بفرز کی تعمیر نو اور ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنا، مسابقت کو مضبوط بنانے اور پیداواریت اور مسابقت کو بڑھانے کے لیے اصلاحات کا فروغ اور حکومت کی سرپرستی میں چلنے والے اداروں میں اصلاحات ،عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانا، صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ کے اخراجات میں اضافہ سے انسانی وسائل کی ترقی، توانائی کے شعبے کی عملداری کو بحال کرنا اور انسداد بدعنوانی کی کوششوں کو تیز کرنا شامل ہیں۔