تعلیم ۷ جون ۲۰۲۶

پبلک سیکٹر جامعات کے بجٹ میں کم از کم 100 فیصد اضافہ کیا جائے، آل پاکستان یونیورسٹی ایمپلائز فیڈریشن کا مطالبہ

کوئٹہ(ویب نیوز)آل پاکستان یونیورسٹی ایمپلائز فیڈریشن کے مرکزی صدر چوہدری بشارت محمود، مرکزی سیکرٹری جنرل طیب اعجاز سواتی، بلوچستان کے صدر شاہ علی بگٹی، سندھ کے صدر سراج بھٹو، پنجاب کے صدر اسد شاہ/تنویر اعوان، جنوبی پنجاب کے صدر ملک صفدر حسین، خیبر پختونخوا کے صدر عبدالمالک خان، آزاد کشمیر کے صدر اسرار سعید قادری اور اسلام آباد کے صدر افتخار کیانی نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی اور صوبائی بجٹ میں ملک بھر کی تمام پبلک سیکٹر جامعات کے بجٹ میں کم از کم 100 فیصد اضافہ کیا جائے تاکہ اعلی تعلیم کے اداروں کو درپیش سنگین مالی بحران پر قابو پایا جا سکے۔ اپنے مشترکہ بیان میں فیڈریشن کے رہنماں نے کہا کہ ملک کی بیشتر پبلک سیکٹر جامعات شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں اور صورتحال اس حد تک گر چکی ہے کہ متعدد جامعات اپنے ملازمین کو بروقت تنخواہیں، پنشن اور دیگر واجبات ادا کرنے سے قاصر ہیں، جبکہ ملازمین کی ترقیوں، الانسز اور دیگر سروس بینیفٹس کی ادائیگی میں غیر معمولی تاخیر سے ہزاروں ملازمین اور ان کے خاندان شدید ذہنی اور معاشی دبا کا شکار ہیں۔رہنماں نے کہا کہ بلوچستان کی جامعات خصوصی طور پر حکومتی توجہ کی مستحق ہیں؛ صوبے میں 11 پبلک سیکٹر جامعات قائم ہیں لیکن ان کے لیے فراہم کیے جانے والے مالی وسائل انتہائی ناکافی ہیں، لہذا بلوچستان کی جامعات کے لیے وفاقی گرانٹ کو موجودہ سطح سے بڑھا کر کم از کم 50 ارب روپے کیا جائے تاکہ وہاں تعلیمی اور انتظامی سرگرمیوں کو بہتر بنا کر ملازمین کو بروقت تنخواہوں اور دیگر مالی حقوق کی ادائیگی ممکن ہو سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور دیگر صوبوں کی جامعات بھی شدید مالی بحران سے دوچار ہیں، صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ جامعات کی مالی معاونت کے لیے خصوصی فنڈز مختص کریں اور پنجاب حکومت کی طرز پر دیگر صوبے بھی اپنی جامعات کی ضروریات کے مطابق خصوصی گرانٹس جاری کریں، جبکہ حکومت پنجاب سے بھی یونیورسٹیز کے موجودہ گرانٹ میں اضافے کا مطالبہ کیا گیا۔ فیڈریشن کے رہنماں نے خبردار کیا کہ اگر اس مالی بحران کا فوری حل نہ نکالا گیا تو اس کے منفی اثرات اعلی تعلیم، تحقیق، تدریس اور انتظامی امور پر مرتب ہوں گے؛ انہوں نے وزیراعظم، وفاقی و صوبائی وزرائے خزانہ اور ہائر ایجوکیشن کمیشن سے اعلی تعلیم کو قومی ترجیحات میں شامل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے عزم دہرایا کہ فیڈریشن ملازمین کے حقوق اور جامعات کے مالی استحکام کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔