تحریر: سید انور شاہ
ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر اس مرحلے پر پہنچتی دکھائی دے رہی ہے جہاں معمولی سفارتی غلطی بھی وسیع تر علاقائی بحران کا سبب بن سکتی ہے۔ ایران پر ممکنہ امریکی حملوں سے متعلق بیانات اور فوجی تیاریوں کی اطلاعات نے مشرقِ وسطیٰ کے علاوہ عالمی سطح پر بھی تشویش پیدا کی ہے۔ عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے سابق سربراہ اور نوبل امن انعام یافتہ محمد البرادعی نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر نیا حملہ خطے کو بھاری قیمت چکانے پر مجبور کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایسی کارروائی تشدد اور تباہی میں اضافے کا باعث بنے گی۔ دوسری جانب چین اور عرب ممالک نے بھی خطے میں امن و استحکام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ کا یہ مؤقف کہ مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطہ عالمی طاقتوں کی کشمکش کا میدان نہیں بننا چاہیے، اس خطے کی حساس صورتِ حال کی عکاسی کرتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات اور حالیہ سفارتی رابطوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن میں ایران کے معاملے پر سفارت کاری اور ممکنہ فوجی کارروائی، دونوں پہلو زیرِ غور ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو کے ساتھ رابطے میں بھی ایران کے خلاف ممکنہ اقدامات پر گفتگو کی اطلاعات ہیں، جبکہ اسرائیلی قیادت فوری فوجی کارروائی کی حمایت کرتی دکھائی دیتی ہے۔ دوسری جانب ٹرمپ نے مذاکرات کو مزید موقع دینے اور معاہدے کے امکان کا بھی اظہار کیا ہے۔ قطر کی ثالثی میں رابطے جاری ہیں، تاہم ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے مطابق ابھی کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا۔ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور جنرل ڈین کین کی کارکردگی سے متعلق صدر کی مشاورت کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، اگرچہ وائٹ ہاؤس نے دونوں عہدیداروں پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ ان پیش رفتوں کو حتمی فیصلوں کے بجائے ایک پیچیدہ سفارتی اور سیاسی صورتِ حال کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔
اس تنازع میں امریکا اور ایران دونوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے مؤقف اور سلامتی کے خدشات کو سفارتی ذرائع سے آگے بڑھائیں۔ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو بین الاقوامی نگرانی، قابلِ تصدیق ضمانتوں اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش ہونی چاہیے، جبکہ کسی بھی فوجی اقدام کے ممکنہ نتائج کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ خطے میں جنگ پھیلنے کی صورت میں اس کے اثرات صرف متعلقہ ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خلیجی سلامتی، عالمی تجارت، توانائی کی فراہمی اور عام شہریوں کی زندگی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ اقوامِ متحدہ کو چاہیے کہ وہ اپنی سفارتی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے فریقین کے درمیان رابطوں اور مذاکرات کو مؤثر بنائے اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر زور دے۔ امریکا، ایران، اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک کو بھی تحمل اور حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اختلافات کا خاتمہ ہمیشہ فوری ممکن نہیں ہوتا، لیکن جنگ سے بچنے اور پائیدار حل تلاش کرنے کے لیے مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنا عالمی امن کے مفاد میں ہے۔
