تحریر: سید انور شاہ
عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان کا حالیہ دورۂ امریکہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان میں اٹھائیسویں آئینی ترمیم اور نئی انتظامی وحدتوں کی تشکیل سے متعلق بحث جاری ہے۔ اس بحث میں موجودہ صوبوں کی تقسیم، نئی اکائیوں کے قیام اور انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی جیسے امکانات زیرِ غور بتائے جا رہے ہیں۔ بعض حلقوں کو خدشہ ہے کہ اگر نئی وحدتوں کی تشکیل میں تاریخی، لسانی اور قومی شناخت کے بجائے چھوٹی قبائلی یا برادری کی بنیاد کو ترجیح دی گئی تو اس سے موجودہ قومیتی شناختیں اور وفاقی اکائیوں کا تصور متاثر ہو سکتا ہے۔ یہ خدشات اپنی جگہ، لیکن نئی انتظامی وحدتوں سے متعلق تجاویز کو کسی حتمی آئینی فیصلے کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔ تاہم ایسے معاملات میں متعلقہ قومیتوں، صوبائی اسمبلیوں، سیاسی جماعتوں اور عوام کو اعتماد میں لینا ناگزیر ہے۔ انتظامی تبدیلیوں کا مقصد عوام کو سہولت فراہم کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ ان کی تاریخی شناخت، سیاسی اختیار یا آئینی حقوق کو کمزور کرنا۔
اسی دوران امریکہ کی جانب سے پاکستان کے معدنی وسائل، بالخصوص اہم معدنیات اور دھاتوں میں سرمایہ کاری کی دلچسپی بھی سامنے آئی ہے۔ امریکی کمپنیوں کی جانب سے پاکستان کے مختلف علاقوں میں معدنی منصوبوں کے امکانات کا جائزہ لینے کی اطلاعات موجود ہیں۔ یہ صورتِ حال اس لیے اہم ہے کہ پشتون وطن اور بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں، لیکن ان علاقوں کے عوام طویل عرصے سے معاشی محرومی، بے روزگاری اور بنیادی سہولتوں کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے میں معدنی وسائل میں بیرونی سرمایہ کاری یا امریکی دلچسپی کو صرف معاشی سرگرمی سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ضروری ہے کہ ہر منصوبے میں مقامی آبادی کے حقوق، صوبائی اختیار، شفاف معاہدوں اور وسائل سے حاصل ہونے والے فوائد میں منصفانہ حصے کو یقینی بنایا جائے۔ سرمایہ کاری کا خیرمقدم اسی وقت بامعنی ہوگا جب اس کے ثمرات مقامی لوگوں تک بھی پہنچیں اور وسائل کے بارے میں فیصلے ان کی مرضی اور آئینی حقوق کو سامنے رکھ کر کیے جائیں۔
ایسے سیاسی اور معاشی پس منظر میں ایمل ولی خان کا امریکی حکام سے رابطہ خاص توجہ کا حامل ہے۔ ان کے دورے کے دوران امریکی محکمہ خارجہ کے حکام سے ملاقاتوں اور انہیں پاکستان آنے کی دعوت دینے کی بات سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق ان ملاقاتوں میں دہشت گردی، علاقائی امن، پشتونوں کے حقوق اور دیگر اصولی معاملات پر تبادلۂ خیال ہوا اور بعض نکات پر اتفاق بھی کیا گیا۔ تاہم ان اتفاقات کی مکمل تفصیلات یا کوئی باضابطہ مشترکہ اعلامیہ سامنے آنا ضروری ہے، تاکہ معلوم ہو سکے کہ کن امور پر اتفاق ہوا اور اس کی عملی صورت کیا ہوگی۔ ایمل ولی خان کے بیان کردہ مؤقف کا ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ دہشت گردی کے معاملے میں اچھے اور برے دہشت گرد کی تفریق نہیں ہونی چاہیے؛ دہشت گردی جہاں بھی ہو اور جس کے ذریعے بھی ہو، اس کے خلاف ایک ہی اصول اور یکساں معیار اختیار کیا جانا چاہیے۔
ایمل ولی خان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پشتون قوم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری جانی و مالی نقصان برداشت کیا ہے۔ ان کے بیان کے مطابق ایک لاکھ سے زائد پشتون اس صورتِ حال سے متاثر ہوئے، لیکن ان کے خیال میں قومی اور عالمی فورموں پر عمران خان اور شہباز شریف سمیت مختلف ادوار کی سیاسی قیادت نے ان قربانیوں اور پشتون علاقوں کے انسانی المیے کو اس وضاحت اور سنجیدگی سے اجاگر نہیں کیا جس کی ضرورت تھی۔ یہ معاملہ کسی ایک حکومت یا جماعت پر تنقید تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کی بحالی، تباہ شدہ علاقوں کی تعمیرِ نو، تعلیم و صحت کی سہولتوں کی فراہمی اور مقامی آبادی کو محفوظ مستقبل دینا قومی ذمہ داری ہے۔ ان قربانیوں کو تسلیم کرنا اور ان علاقوں کے مسائل کو قومی اور عالمی سطح پر اجاگر کرنا بھی اسی ذمہ داری کا حصہ ہے۔
پشتونوں کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ انہیں پاکستان کے دوسرے شہریوں کی طرح مساوی آئینی، سیاسی اور معاشی حقوق حاصل ہوں۔ وہ اپنے پانی، بجلی اور معدنی وسائل پر آئینی و قانونی اختیار چاہتے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ قدرتی وسائل سے متعلق فیصلوں میں مقامی آبادی اور منتخب نمائندوں کو شریک کیا جائے، ان وسائل سے حاصل ہونے والے فوائد میں مقامی لوگوں کا جائز حصہ تسلیم کیا جائے اور ان کی مرضی اور مفادات کے برخلاف وسائل استعمال نہ کیے جائیں۔ کسی علاقے کے قدرتی ذخائر وہاں کے عوام کی معاشی ترقی، روزگار، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولتوں کا ذریعہ بننے چاہییں۔ اگر معدنیات اور توانائی کے ذخائر رکھنے والے علاقوں کے عوام غربت اور محرومی کا شکار رہیں تو وسائل کی تقسیم اور انتظامی پالیسیوں پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
ایمل ولی خان نے ماضی کی غلط پالیسیوں اور فیصلوں کو تسلیم کرنے، ان کی ذمہ داری قبول کرنے اور آئندہ انہیں نہ دہرانے کی یقین دہانی کی ضرورت بھی بیان کی ہے۔ یہ مطالبہ قومی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ پائیدار امن اور عوامی اعتماد محض اعلانات سے قائم نہیں ہوتے۔ اس کے لیے ماضی کے فیصلوں کا غیرجانبدارانہ جائزہ، ان کے نتائج کا اعتراف، متاثرہ لوگوں کے مسائل کا حل اور آئندہ کے لیے واضح پالیسی درکار ہوتی ہے۔ وفاقی اکائیوں کو اپنے آئینی دائرۂ اختیار میں فیصلے کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے اور ان کے داخلی معاملات میں غیرضروری مداخلت سے گریز کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح قومی وسائل اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق فیصلوں میں صوبائی حکومتوں اور عوامی نمائندوں کی مؤثر شرکت ضروری ہے۔
آزاد، شفاف اور غیرجانبدار انتخابات بھی اسی مطالبے کا بنیادی حصہ ہیں۔ جمہوری نظام میں عوام کو یہ اطمینان ہونا چاہیے کہ ان کا ووٹ ہی اقتدار کے حصول کا فیصلہ کن ذریعہ ہے اور انتخابی عمل ہر قسم کے دباؤ، اثراندازی اور مداخلت سے پاک ہے۔ سیاسی جماعتوں کو اپنی مقبولیت اور کارکردگی کی بنیاد پر عوام سے رجوع کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ انتخابی شفافیت کسی ایک جماعت کا مطالبہ نہیں بلکہ پورے جمہوری نظام کی ضرورت ہے۔ اگر عوام کا انتخابی عمل پر اعتماد کمزور ہو تو پارلیمان، حکومت اور ریاستی اداروں کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔
اس دورے کا ایک تاریخی پس منظر بھی ہے۔ اسفندیار ولی خان نے اپنے سیاسی دور میں امریکی حکام سے رابطے کیے اور واشنگٹن میں مختلف اہم اداروں کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں۔ اس وقت ان رابطوں کے بعد عوامی نیشنل پارٹی اور اس سیاسی خاندان کو درپیش مشکلات میں اضافے اور سیاسی میدان سے اسے غیرمؤثر یا باہر کرنے کی کوششوں کا تاثر بھی موجود رہا۔ اس دور کے سیاسی حالات اور موجودہ حالات میں فرق ہے۔ اسفندیار ولی خان کے دور میں خطے کی ترجیحات، افغانستان کی صورتِ حال اور پاکستان کی داخلی سیاست کے تقاضے مختلف تھے، جبکہ آج عالمی سیاست، علاقائی سلامتی، معدنی وسائل اور نئی معاشی ترجیحات نے صورتِ حال کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ اسی لیے موجودہ رابطوں کو ماضی کی عین تکرار سمجھنے کے بجائے بدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ تاہم ماضی کے تجربات کو نظرانداز کرنا بھی مناسب نہیں؛ سیاسی قیادت کو سفارتی رابطوں کے ممکنہ اثرات اور ان کے داخلی سیاسی نتائج دونوں کو سامنے رکھنا ہوگا۔
موجودہ دورے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وفاقی اکائیوں کی نمائندگی کرنے والی سیاسی قیادت اب اپنے دیرینہ مسائل اور آئینی حقوق کے معاملات پر ریاستی اداروں کے بجائے عالمی طاقتوں سے براہِ راست مکالمے کی ضرورت محسوس کر رہی ہے۔ امریکی حکام کو پاکستان آنے کی دعوت اور ان کے ساتھ مختلف قومی و علاقائی معاملات پر گفتگو کی خواہش محض سفارتی رابطہ نہیں، بلکہ اس صورتِ حال کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ کمزور پڑ رہا ہے۔ جب منتخب سیاسی قیادت کو یہ محسوس ہو کہ اس کی آواز ملکی فیصلہ ساز اداروں تک مؤثر انداز میں نہیں پہنچ رہی تو وہ اپنے مسائل عالمی فورموں پر اٹھانے کی طرف مائل ہوتی ہے۔ یہ صورتِ حال ریاستی اداروں، سیاسی قیادت اور وفاقی اکائیوں کے لیے غور طلب ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عوامی نمائندوں کے تحفظات کو ملک کے اندر سنا جائے، ان کے آئینی مطالبات پر سنجیدہ مکالمہ ہو اور اعتماد کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں؛ کیونکہ کسی بھی مضبوط وفاق کی بنیاد اس کے شہریوں اور ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد، باہمی احترام اور آئینی شراکت داری پر قائم ہوتی ہے۔
خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے عوام چاہتے ہیں کہ انہیں بھی ملک کے دوسرے حصوں کی طرح امن، تعلیم، صحت، روزگار اور ترقی کے یکساں مواقع میسر ہوں۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ اس کے سیاسی، معاشی اور سماجی اسباب کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ دہشت گردی کی مذمت اور اس کے خلاف کارروائی کے لیے ایک واضح اور یکساں قومی معیار ہونا چاہیے۔ مقامی آبادی کو اعتماد میں لیے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں، اس لیے عوامی نمائندگی، بنیادی حقوق اور ترقیاتی اقدامات کو امن کی حکمتِ عملی کا لازمی حصہ بنایا جانا چاہیے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اپنے وفاقی ڈھانچے کو اس طرح مضبوط بنا سکتا ہے کہ ہر اکائی کو اپنے وسائل، سیاسی اختیار اور ترقی کے مواقع پر منصفانہ حق حاصل ہو؟ نئی انتظامی وحدتوں کی تشکیل ہو یا معدنی وسائل میں بیرونی سرمایہ کاری، دونوں معاملات میں مقامی عوام کی مرضی، آئینی طریقۂ کار اور منتخب نمائندوں کی شرکت بنیادی اصول ہونے چاہییں۔ پشتونوں کے مطالبات کو کسی جماعت کی سیاسی سرگرمی یا محض علاقائی نعرے کے طور پر نظرانداز کرنے کے بجائے آئینی وفاق، مساوی شہریت اور قومی یکجہتی کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہی اصول بلوچستان سمیت تمام وفاقی اکائیوں کے لیے بھی یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔
ایمل ولی خان کے دورۂ امریکہ کی حقیقی اہمیت کا تعین اس بات سے ہوگا کہ ان رابطوں کے بعد پشتون علاقوں کے مسائل کس حد تک قومی اور عالمی فورموں پر زیرِ بحث آتے ہیں اور پاکستان کے اندر ان کے حل کے لیے کیا عملی پیش رفت ہوتی ہے۔ اگر ان ملاقاتوں میں طے پانے والے اصولی نکات کی باضابطہ وضاحت سامنے آتی ہے اور انہیں عملی اقدامات میں ڈھالا جاتا ہے تو یہ رابطے ایک نئی سیاسی اور سفارتی پیش رفت بن سکتے ہیں۔ تاہم اصل امتحان یہ ہوگا کہ پشتونوں سمیت تمام وفاقی اکائیوں کو ان کے آئینی حقوق، وسائل پر اختیار، شفاف سیاسی عمل اور باوقار زندگی کے مواقع کس حد تک فراہم کیے جاتے ہیں۔ قومی یکجہتی کا تقاضا یہ نہیں کہ محرومیوں پر خاموشی اختیار کی جائے، بلکہ یہ ہے کہ ہر شہری اور ہر وفاقی اکائی کو آئین کے مطابق اس کا حق دیا جائے۔ یہی طرزِ عمل پاکستان میں پائیدار امن، جمہوری استحکام اور حقیقی وفاقی ہم آہنگی کی بنیاد بن سکتا ہے۔
