انٹرٹینمنٹ ۱ نومبر ۲۰۲۶

تختی، تخت اور بلوچستان

تحریر: سید انور شاہ

میں سڑک عبور کر رہا تھا کہ اچانک گاڑی کے بریک لگنے کی ایک تیز آواز سنائی دی۔ اس کے ساتھ ہی ایک بچی کی چیخ فضا میں بلند ہوئی۔ آواز اتنی کربناک تھی کہ چند لمحوں کے لیے اردگرد کا شور جیسے خاموش ہو گیا۔ میں تیزی سے اس کی طرف بھاگا۔ بچی سڑک کے کنارے کھڑی رو رہی تھی۔ اس کے ہاتھ میں لکڑی کی ایک ٹوٹی ہوئی تختی تھی۔
میں نے گھبرا کر پوچھا، ’’بیٹا! چوٹ تو نہیں لگی؟ کہاں درد ہو رہا ہے؟‘‘
وہ مسلسل روئے جا رہی تھی۔ میں نے دوبارہ پوچھا، ’’بیٹی، تمہیں چوٹ کہاں لگی ہے؟‘‘
اس نے آنسوؤں کے درمیان میری طرف دیکھا اور کہا، ’’انکل! مجھے چوٹ نہیں لگی، میری تختی ٹوٹ گئی ہے۔ گھر جاؤں گی تو امی ماریں گی۔ ابو کے پاس پیسے بھی نہیں ہیں کہ نئی تختی خرید کر دے سکیں۔ کل اسکول میں تختی کے بغیر گئی تو استاد ماریں گے، شاید اسکول سے بھی نکال دیں۔‘‘
میں اس کے سامنے خاموش کھڑا رہ گیا۔
ایک لمحے کے لیے مجھے محسوس ہوا کہ اس بچی کے ہاتھ میں ٹوٹی ہوئی تختی نہیں، کسی پورے معاشرے کا مستقبل پڑا ہے۔ وہ اپنی جان بچ جانے پر مطمئن نہیں تھی؛ اسے اپنے گھر کی غربت، ماں کی ناراضی، باپ کی بے بسی اور اسکول کی سزا کا خوف کھائے جا رہا تھا۔
میں وہاں سے آگے تو بڑھ گیا، مگر اس کی آواز میرے ساتھ چلنے لگی۔
کچھ آوازیں کانوں سے نہیں نکلتیں، ذہن میں گھر کر لیتی ہیں۔
میرا ذہن کوئٹہ کی گلیوں سے نکل کر بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں میں جا پہنچا۔ کہیں ایک بچہ پھٹے ہوئے جوتوں میں اسکول کی طرف جا رہا تھا، کہیں ایک ماں اپنے بچے کو بخار میں تڑپتا دیکھ کر کسی دوا کی تلاش میں تھی، کہیں ایک بوڑھا شخص پانی کے خالی برتن لیے گھنٹوں انتظار کر رہا تھا۔ کسی گاؤں میں اسکول کی عمارت موجود تھی مگر استاد نہیں، کسی جگہ استاد تھا مگر بچے نہیں، اور کہیں بچے بھی تھے، استاد بھی، مگر چھت، فرنیچر اور کتابوں کا نام و نشان نہ تھا۔
مجھے اچانک بجٹ کی وہ بھاری بھرکم کتابیں یاد آئیں جن میں اربوں روپے کے اعداد قطار در قطار درج ہوتے ہیں۔ تعلیم کے لیے اربوں، صحت کے لیے اربوں، ترقی کے لیے اربوں اور عوامی سہولتوں کے لیے مزید اربوں۔ کاغذ پر بلوچستان ایک خوشحال صوبہ دکھائی دیتا تھا، مگر اس کے ایک بچے کے ہاتھ میں تختی خریدنے کے پیسے نہیں تھے۔
میں سوچنے لگا کہ ان اعداد اور اس بچی کے درمیان آخر کون سا فاصلہ حائل ہے؟
کیا یہ رقم راستے میں کہیں کھو جاتی ہے؟ کیا یہ دفاتر کی فائلوں میں اپنی منزل بھول جاتی ہے؟ یا اس کے حصے کی خوشحالی کسی اور کے دروازے پر دستک دے دیتی ہے؟
میرا ذہن مجھے ایک اور منظر میں لے گیا۔ سمندر پار بلند و بالا عمارتیں، وسیع و عریض کاروبار، چمکتی ہوئی گاڑیاں اور شاہانہ رہائش گاہیں۔ میرے تصور میں ان عمارتوں کے نیچے بلوچستان کے وہ راستے ابھرنے لگے جہاں بچے ننگے پاؤں چلتے ہیں، جہاں مریض دوا کے لیے دوسروں کا منہ دیکھتے ہیں اور جہاں پانی کے لیے عورتیں میلوں سفر کرتی ہیں۔
میں کسی ایک شخص کو مجرم قرار دینے کے بجائے خود سے پوچھ رہا تھا کہ اگر کسی علاقے کے وسائل سے حاصل ہونے والی دولت وہاں کے لوگوں کی زندگی میں بہتری پیدا نہیں کر رہی تو اس دولت کی اصل منزل کیا ہے؟ اور اگر عوامی وسائل کے غلط استعمال کی شکایات دہائیوں سے موجود ہیں تو ان کا حساب کون دے گا؟
اسی ذہنی سفر میں مجھے ایک خشک جوہڑ دکھائی دیا۔ چند انسان اور جانور ایک ہی جگہ جمع تھے۔ پانی کی سطح پر گندگی تیر رہی تھی۔ ایک شخص نے ہاتھوں سے پانی اٹھایا اور پینے لگا۔ میں نے اسے غور سے دیکھا۔ اس کے چہرے پر نہ کوئی شکایت تھی، نہ احتجاج، نہ حیرت۔ شاید محرومی اتنی پرانی ہو چکی تھی کہ اب اسے معمول سمجھ لیا گیا تھا۔
کچھ فاصلے پر ایک بیمار شخص بیٹھا تھا۔ اس کے گھر والے معمولی سی دوا کے لیے پریشان تھے۔ ایک ڈسپرین کی گولی بھی ان کے لیے فوری ضرورت بن چکی تھی۔
میں نے سوچا، یہ کیسا معاشرہ ہے جہاں ایک طرف ترقی کے منصوبوں کی افتتاحی تختیاں لگائی جاتی ہیں اور دوسری طرف ایک بچی کی اپنی تختی ٹوٹ جانے پر تعلیم چھوٹ جانے کا خوف ہے؟ جہاں عمارتیں تو بلند ہوتی جا رہی ہیں مگر انسان کی زندگی کی بنیادی ضرورتیں زمین پر پڑی رہتی ہیں؟
مجھے اپنے ذہن میں ایک اور تخت دکھائی دیا۔ وہ تخت جس پر بیٹھنے کے لیے لوگ انتخابی موسم میں عوام کے دروازوں پر آتے ہیں۔ وعدے ہوتے ہیں، تقاریر ہوتی ہیں، مستقبل کے نقشے بنتے ہیں۔ مگر اقتدار کے ایوانوں سے نکلنے والی فائلیں جب کسی گاؤں کے اسکول، کسی بیمار کے بستر یا کسی پیاسے گھر تک پہنچتی ہیں تو ان کے قدم جیسے سست پڑ جاتے ہیں۔
بلوچستان کے بلدیاتی ادارے بھی میرے خیال میں آ گئے۔ وہ ادارے جنہیں گلی، محلے، پانی، صفائی اور مقامی ترقی کی ذمہ داری اٹھانی چاہیے، مگر جن کے پاس اکثر اختیار، وسائل اور عملے کی کمی رہتی ہے۔ صوبائی حکومت، ضلعی انتظامیہ اور منتخب بلدیاتی نمائندوں کے درمیان ذمہ داریوں کی لکیر اتنی دھندلی ہے کہ عوام کو اپنی شکایت لے کر معلوم ہی نہیں ہوتا کہ کس دروازے پر دستک دیں۔
میں نے تصور کیا کہ اگر ہر گاؤں اور محلے کا منتخب نمائندہ اپنے علاقے کے پانی، صفائی، اسکول کے اطراف کی سہولتوں اور گلیوں کا جواب دہ ہو؛ اگر اس کے پاس کام کرنے کے لیے باقاعدہ فنڈ ہو؛ اگر ہر خرچ کا حساب عوام کے سامنے رکھا جائے تو شاید اس بچی کی ٹوٹی ہوئی تختی بھی کسی سرکاری دفتر کی فائل میں گم نہ ہو۔
مگر یہ سب سوچتے ہوئے مجھے پھر اسی بچی کا چہرہ یاد آ گیا۔
وہ ابھی بھی شاید اپنے گھر جا چکی ہوگی۔ ماں کے سامنے ٹوٹی ہوئی تختی رکھ دی ہوگی۔ باپ خاموشی سے اسے دیکھ رہا ہوگا۔ ممکن ہے ماں نے اسے ڈانٹا بھی ہو، مگر کیا وہ خود اس سے کم مجبور ہوگی؟ اس کے پاس بھی تو اپنے بچے کے لیے نئی تختی خریدنے کے وسائل نہیں تھے۔
میں نے محسوس کیا کہ غربت صرف خالی جیب کا نام نہیں۔ غربت وہ خوف بھی ہے جو ایک بچے کو اپنی جان سے زیادہ ٹوٹی ہوئی تختی کا دکھ دیتا ہے۔ وہ بے بسی بھی ہے جو باپ کو اپنے بچے کی معمولی ضرورت پوری نہ کرنے دیتی ہے، اور وہ خاموشی بھی ہے جو ایک پورے معاشرے کو محرومی کا عادی بنا دیتی ہے۔
شام ڈھل رہی تھی۔ سڑک پر گاڑیوں کا شور پہلے کی طرح جاری تھا۔ لوگ اپنی منزلوں کی طرف رواں دواں تھے۔ شاید کسی نے اس واقعے کو اہمیت بھی نہ دی ہو۔ مگر میرے ذہن میں ایک عجیب منظر مسلسل گردش کر رہا تھا۔
ایک طرف اقتدار کا تخت تھا، دوسری طرف ایک بچی کی ٹوٹی ہوئی تختی۔
ایک تخت پر بیٹھنے کے لیے کتنی جدوجہد ہوتی ہے، کتنے وعدے کیے جاتے ہیں، کتنے وسائل خرچ ہوتے ہیں؛ اور دوسری طرف ایک تختی خریدنے کے لیے ایک غریب باپ کے پاس چند روپے بھی نہیں۔
میں نے اپنی نگاہیں جھکا لیں۔
آج بھی مجھے معلوم نہیں کہ اس روز سڑک پر صرف ایک تختی ٹوٹی تھی، یا اس کی آواز نے مجھے یہ احساس دلایا تھا کہ کہیں ہم سب نے مل کر ایک پوری نسل کے خواب تو نہیں توڑ دیے؟
اور اگر ایسا ہے تو تاریخ ہمیں کس تخت پر بٹھائے گی، اور آنے والی نسلیں ہماری ٹوٹی ہوئی تختی کو کس نام سے یاد کریں گی؟ ۔