تحریر: سید انور شاہ
ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث زور پکڑ رہی ہے، جس کے نتیجے میں وفاق کی موجودہ اکائیوں میں سیاسی اور سماجی ردعمل بھی سامنے آ رہا ہے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی شناخت اپنی الگ اہمیت رکھتی ہے، انتظامی تقسیم کا تصور تحفظات کو جنم دے رہا ہے۔ اگر موجودہ اکائیاں مکمل طور پر فطری بنیادوں پر تشکیل دی گئی ہوتیں تو ان کی تقسیم کے مطالبات پر ردعمل شاید اس سے بھی زیادہ شدید ہوتا۔ تاہم بلوچستان کے تناظر میں بنیادی سوال یہ ہے کہ جب موجودہ صوبائی اور مقامی انتظامی ڈھانچہ ہی عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں مطلوبہ کردار ادا نہیں کر پا رہا تو نئی انتظامی اکائیوں کے قیام سے عام آدمی کی زندگی میں کیا تبدیلی آئے گی؟ اگر مقتدر حلقوں کا مقصد واقعی بلوچستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو سب سے پہلے موجودہ بلدیاتی اداروں کو فعال بنانے اور اختیارات کو حقیقی معنوں میں نچلی سطح تک منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔
بلوچستان کے شہروں، قصبوں اور دیہی علاقوں میں صفائی، کچرے کی تلفی، پینے کے صاف پانی، مقامی سڑکوں، نکاسی آب، بارش کے پانی کی بروقت نکاسی، اسٹریٹ لائٹس، پارکوں، شجرکاری اور ماحولیات جیسے بنیادی معاملات بلدیاتی اداروں کی ذمہ داری ہونے چاہئیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں مقامی حکومتیں ان خدمات کے لیے مالی وسائل، انتظامی عملے اور فیصلہ سازی کے اختیارات رکھتی ہیں، جبکہ ان کی کارکردگی عوام کے سامنے جواب دہ ہوتی ہے۔ بلوچستان میں بھی اس اصول کے تحت اختیارات کی واضح تقسیم ناگزیر ہے۔ **صوبائی حکومت** قانون سازی، پالیسی سازی، بڑے ترقیاتی منصوبوں، مالی وسائل کی منصفانہ تقسیم، صوبائی سطح کی نگرانی اور ادارہ جاتی اصلاحات کی ذمہ دار ہو۔ **ضلعی انتظامیہ** امن و امان، قانون کے نفاذ، قدرتی آفات سے نمٹنے، مختلف سرکاری محکموں کے درمیان رابطے اور صوبائی پالیسیوں پر عمل درآمد کی ذمہ داری سنبھالے۔ اس کے برعکس **منتخب بلدیاتی اداروں** کو صفائی، پانی کی مقامی فراہمی، نکاسی آب، مقامی سڑکوں، گلیوں، اسٹریٹ لائٹس، پارکوں، مقامی ترقیاتی منصوبوں اور شہری سہولتوں کے انتظام پر مکمل قانونی و انتظامی اختیار دیا جائے۔ ان کے ماتحت عملے کی تعیناتی، نگرانی اور کارکردگی کا جائزہ بھی متعلقہ بلدیاتی قیادت کے دائرۂ اختیار میں ہو۔ کسی ایک ادارے کی ذمہ داری دوسرے ادارے کے اختیار سے متصادم نہ ہو اور ضلعی یا صوبائی انتظامیہ کو منتخب کونسلوں کے روزمرہ معاملات میں غیر ضروری مداخلت کا اختیار حاصل نہ ہو۔ اسی طرح بلدیاتی اداروں کو اپنے محصولات جمع کرنے، مقررہ سرکاری گرانٹس وصول کرنے اور منظور شدہ بجٹ کے مطابق اخراجات کرنے کی مالی خودمختاری بھی دی جائے۔
بلوچستان کی پسماندگی کا ایک بڑا مسئلہ صرف وسائل کی کمی نہیں بلکہ دستیاب وسائل کے استعمال، ترجیحات کے تعین اور اختیارات کے ارتکاز کا بھی ہے۔ جب صفائی کی ذمہ داری بلدیاتی ادارے پر ہو لیکن عملہ کسی دوسرے محکمے کے کنٹرول میں ہو، ترقیاتی منصوبے منتخب نمائندے کی ترجیح ہوں مگر منظوری اور فنڈز کا اختیار کسی دوسرے دفتر کے پاس ہو، تو جواب دہی کا نظام بھی غیر مؤثر ہو جاتا ہے۔ اس تضاد کو ختم کیے بغیر بلدیاتی اصلاحات کا مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔ ہر ادارے کے لیے واضح ذمہ داریاں، مستقل مالی وسائل، شفاف آڈٹ اور سالانہ کارکردگی کے قابلِ پیمائش اہداف مقرر کیے جائیں۔ عوام کو یہ جاننے کا حق ہو کہ صفائی، پانی، سڑکوں اور نکاسی آب کے لیے کتنی رقم مختص ہوئی، کہاں خرچ ہوئی اور کیا نتائج حاصل ہوئے۔ نئے صوبوں کا قیام ایک الگ آئینی اور سیاسی معاملہ ہے، لیکن بلوچستان کے عوام کو درپیش بنیادی مسائل کا حل پہلے سے موجود اداروں کو بااختیار بنانے میں ہے۔ اگر واقعی ترقی اور خوشحالی مقصود ہے تو اختیارات کو چند مرکزی دفاتر تک محدود رکھنے کے بجائے عوام کے منتخب نمائندوں تک منتقل کیا جائے۔ **مضبوط وفاق کے لیے بااختیار صوبے اور خوشحال بلوچستان کے لیے بااختیار بلدیاتی ادارے ناگزیر ہیں؛ محض انتظامی حدود تبدیل کرنے سے عوام کی قسمت نہیں بدلتی، اصل تبدیلی اختیارات، وسائل اور جواب دہی کی منصفانہ تقسیم سے آتی ہے۔
