تازہ ترین ۱ نومبر ۲۰۲۶

اسرائیل میں حکومت سازی کے لیے سیاسی رابطے تیز، نیتن یاہو کو اقتدار بچانے کا چیلنج

کوئٹہ (ویب نیوز) اسرائیل میں حالیہ انتخابات کے بعد حکومت سازی کے لیے سیاسی جوڑ توڑ تیز ہوگئی ہے، جہاں کسی بڑے سیاسی اتحاد کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوسکی۔ سابق وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اپنے دائیں بازو کے اتحادیوں کو متحد رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ گادی آئزنکوٹ نے اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ سمیت ممکنہ اتحادیوں سے رابطے شروع کر دیے ہیں۔ صدر آئزک ہرزوگ انتخابی نتائج موصول ہونے کے بعد جماعتوں سے مشاورت کریں گے اور کسی رہنما کو حکومت بنانے کا مینڈیٹ دیں گے، جس کے لیے 28 دن کی مدت مقرر ہوگی اور ضرورت پڑنے پر مزید 14 دن کی توسیع ممکن ہے۔ آئزنکوٹ نے ممکنہ اتحادیوں کے لیے چار بنیادی شرائط پیش کی ہیں، جن میں اسرائیل کی یہودی، جمہوری اور لبرل ریاستی حیثیت تسلیم کرنا، قومی خدمت کی حمایت اور حماس کی عسکری صلاحیتیں محدود کرنے کا عزم شامل ہے۔ دوسری جانب نیتن یاہو نے عرب جماعتوں کے ووٹوں پر انحصار کرنے والی حکومت کی حمایت سے انکار کیا ہے۔ مختلف جماعتوں کے درمیان رابطے جاری ہیں، تاہم حکومت سازی کا حتمی منظرنامہ ابھی واضح نہیں۔