تازہ ترین ۲ نومبر ۲۰۲۶

جہاں کھیلوں کے میدان آباد ہوتے ہیں وہاں سماجی برائیوں کا خاتمہ ہوتا ہے، سید سردار خوندئی

چمن (خصوصیرپورٹ)

ملک کے معروف تعلیمی ادارے اقراء علمی مرکز چمن بوائز سیکشن کے زیر اہتمام کلاس وائز کرکٹ ٹورنامنٹ انتہائی منظم اور پُرامن انداز میں اختتام پذیر ہوگیا۔

ٹورنامنٹ میں ادارے کے تمام کلاسز نے بھرپور حصہ لیا۔ ٹورنامنٹ کمیٹی نے نظم و ضبط کے ساتھ تمام میچز کو بہترین انداز میں منعقد کرایا۔ واضح رہے کہ اقراء علمی مرکز چمن میں درسی اصولوں کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں کو بھی خاص اہمیت حاصل ہے اور ادارے میں روزِ اول سے ہفتہ وار تقریری مقابلوں کا سلسلہ بھی الحمدللہ جاری ہے۔

ٹورنامنٹ کا فائنل میچ گزشتہ روز جماعت نہم اور جماعت ہفتم کے درمیان کھیلا گیا۔ ٹاس جیت کر جماعت نہم نے پہلے فیلڈنگ کو ترجیح دی۔ جماعت ہفتم نے مقررہ 12 اوورز میں 96 رنز کا قابلِ تعریف ہدف دیا۔

جواب میں جماعت نہم نے دوسری اننگز میں لاجواب بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے میچ کا پانسہ پلٹ دیا اور صرف 7 اوورز میں 96 رنز کا ہدف حاصل کر کے فائنل اپنے نام کر لیا۔

فائنل میچ میں شاندار کارکردگی پر احمد شاہ کو مین آف دی میچ جبکہ پوری ٹورنامنٹ میں بہترین کارکردگی پر حسن خان جماعت ہفتم کو مین آف دی ٹورنامنٹ قرار دیا گیا۔

ٹورنامنٹ کے مہمانِ خصوصی اقراء علمی مرکز چمن کے سربراہ، سینئر صحافی و کالم نگار سید سردار محمد خوندئی تھے۔ انہوں نے دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں سے تعارف کیا اور کھلاڑیوں کے ساتھ گروپ فوٹو بنوایا۔ فائنل میچ کے ریفری کے فرائض سینئر استاد جمعہ خان اور محمد ابراہیم نے سرانجام دیے۔

فائنل کے موقع پر پولیس نے سیکیورٹی کے بہترین انتظامات کیے تھے۔ ادارے کے سینکڑوں طلباء نے فائنل میچ سے لطف اٹھایا۔ میچ کے دوران روایتی اتنڑ کا مظاہرہ بھی کیا گیا، کمنٹری کے فرائض نصیب اللہ اور سید محمد نے انجام دیے، جبکہ کوریج کی تمام تر ذمہ داری آمان اللہ شادمن نے نبھائی۔

ٹورنامنٹ کو کامیاب بنانے میں ادارے کے تمام اساتذہ کرام نے بھرپور کردار ادا کیا، جبکہ طلباء کمیٹی میں سعداللہ، اقبال خان، سلیمان خان، قسیم خان، سعید الرحمان، ارمان خان، احسان اللہ، سمیع اللہ، محمود خان اور ودود خان نے بہترین خدمات سرانجام دیں۔

اپنے خطاب میں مہمانِ خصوصی سید سردار محمد خوندئی نے ٹورنامنٹ کے تمام منتظمین اور پولیس افسران و اہلکاروں کو پُروقار انتظامات پر خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ “جہاں کھیلوں کے میدان آباد ہوتے ہیں وہاں سماجی برائیوں کا خاتمہ ہوتا ہے۔

آخر میں مہمانِ خصوصی نے فائنل جیتنے والی ٹیم کیلئے 10 ہزار روپے نقد اور فائنل ہارنے والی ٹیم کیلئے 5 ہزار روپے نقد انعام کے ساتھ بہترین ٹرافیاں تقسیم کیں، جبکہ بہترین کھیل پیش کرنے والے کھلاڑیوں میں میڈلز بھی تقسیم کیے گئے۔