انٹرٹینمنٹ ۳۰ اکتوبر ۲۰۲۶

حقیقی پارلیمان، بااختیار وفاق اور خوشحال پاکستان

تحریر: سید انور شاہ

پاکستان میں پارلیمان کی بالادستی، آئین کی حکمرانی اور عوام کے حقِ حکمرانی کے مطالبات نئے نہیں۔ جمہوری نمائندے عشروں سے یہی اصول دہراتے آئے ہیں، مگر عملی سیاست میں عوامی اختیار اور آئینی بالادستی کا سوال بدستور موجود ہے۔ المیہ یہ ہے کہ جمہور کے حقِ حکمرانی کو تسلیم کرنے کے دعووں کے باوجود طاقت کے مختلف مراکز میں ایسی روش برقرار رہی جس نے منتخب ایوانوں کے اختیار اور عوامی اعتماد کو متاثر کیا۔ محمود خان اچکزئی کا پارلیمان کو طاقت کا سرچشمہ بنانے، قومی معاملات میں تمام سیاسی قوتوں کو اعتماد میں لینے اور ہمسایہ ممالک سے برابری کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنے کا مطالبہ اسی تاریخی مسئلے کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ تاہم، اب ضرورت محض ان اصولوں کی تکرار نہیں بلکہ ان پر عملی پیش رفت کی ہے۔
حقیقی پارلیمان وہی ہے جس کی تشکیل آزادانہ عوامی رائے سے ہو، جو بیرونی دباؤ سے آزاد ہو اور جس کے سامنے تمام ریاستی ادارے اپنے اپنے آئینی دائرے میں جواب دہ ہوں۔ پارلیمان کے ارکان بھی احتساب سے بالاتر نہیں؛ انہیں عوامی نمائندگی کو ذاتی اختیار اور مراعات کے بجائے قومی امانت سمجھنا چاہیے۔ اسی طرح کسی ادارے یا فرد کو آئین سے بالاتر اختیار حاصل نہیں ہونا چاہیے۔ جمہوریت کی مضبوطی اسی وقت ممکن ہے جب عوامی مینڈیٹ کا احترام، شفاف فیصلہ سازی اور آئینی جواب دہی حکمرانی کے بنیادی اصول بنیں۔
اس مقصد کے لیے تمام جمہوری قوتوں کو مشترکہ لائحۂ عمل اختیار کرنا ہوگا۔ سیاسی جماعتیں واضح اعلان کریں کہ حقیقی پارلیمانی بالادستی، آزادانہ انتخابات اور تمام اداروں کی آئینی جواب دہی کے بغیر جمہوری نظام مستحکم نہیں ہوسکتا۔ اگر پارلیمان کو مؤثر بنانے کے لیے موجودہ سیاسی طریقۂ کار ناکافی ثابت ہو تو جماعتیں اپنے آئینی و جمہوری اختیارات استعمال کرتے ہوئے متفقہ جدوجہد کا راستہ اختیار کریں۔ ملک بھر میں عوامی رابطہ مہم اور پُرامن لانگ مارچ کے ذریعے یہ مطالبہ اٹھایا جاسکتا ہے کہ اقتدار کا سرچشمہ عوام ہوں، پارلیمان حقیقی معنوں میں بااختیار ہو اور ہر ادارہ اپنے آئینی دائرے میں کام کرے۔ کسی بھی بائیکاٹ یا پارلیمانی عدم شرکت کی حکمتِ عملی طے کرتے وقت یہ امر پیش نظر رہنا چاہیے کہ اس سے عوامی نمائندگی مزید کمزور نہ ہو اور جدوجہد اپنے بنیادی مقصد سے منحرف نہ ہونے پائے۔
پاکستان کی پائیدار ترقی کے لیے وفاقی اکائیوں کی حقیقی خودمختاری بھی ناگزیر ہے۔ بلوچستان، سندھ، خیبر پختونخوا اور پنجاب کو اپنے آئینی اختیارات، وسائل اور ترقیاتی ترجیحات کے بارے میں مؤثر فیصلہ سازی کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ وفاق کی مضبوطی صوبوں کے اختیارات محدود کرنے سے نہیں بلکہ ان کے حقوق تسلیم کرنے، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مشترکہ قومی مفادات پر تعاون سے ممکن ہے۔ صوبوں کے اندر محروم اضلاع اور کمزور طبقات کو بھی ان کا جائز حصہ ملنا چاہیے، تاکہ خودمختاری کے ثمرات چند بااثر گروہوں تک محدود نہ رہیں۔
اسی طرح پارلیمان، انتظامیہ، عدلیہ اور دیگر ریاستی اداروں کو اپنے اپنے آئینی و قانونی دائرۂ کار میں رہنا ہوگا۔ اداروں کے درمیان تعاون ضروری ہے، لیکن کسی ادارے کی جانب سے دوسرے کے اختیارات میں غیر آئینی مداخلت ریاستی توازن کو نقصان پہنچاتی ہے۔ خارجہ پالیسی میں بھی خودمختاری، باہمی احترام اور برابری کے اصول اپنانے چاہییں۔ افغانستان سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو بالادستی کے تصورات کے بجائے سفارت کاری، تجارت، سلامتی اور باہمی مفادات کی بنیاد پر آگے بڑھانا وقت کی ضرورت ہے۔
خوشحال پاکستان کی ضمانت کسی ایک جماعت، رہنما یا ادارے کی بالادستی میں نہیں، بلکہ حقیقی پارلیمان، آزادانہ عوامی اختیار، بااختیار وفاقی اکائیوں، منصفانہ وسائل کی تقسیم اور آئینی جواب دہی میں ہے۔ جمہوری قوتوں کو جماعتی اختلافات سے بالاتر ہوکر ایک ایسے قومی معاہدے کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے جس میں عوام کی رائے فیصلہ کن ہو، تمام ادارے آئین کے تابع ہوں اور ہر شہری کو انصاف، تعلیم، روزگار اور باوقار زندگی کے مواقع میسر آئیں۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے پاکستان ماضی کی سیاسی کشمکش سے نکل کر ایک مضبوط، منصفانہ اور خوشحال وفاق بن سکتا ہے۔