انٹرٹینمنٹ ۲۹ اکتوبر ۲۰۲۶

وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا:ایک معاشرے کے سرطان کی کہانی

تحریر: سید انور شاہ

رات کوئٹہ کی سڑکوں پر اتر چکی تھی۔ سرد ہوا کے جھونکے جسم میں اترتے تھے، مگر شہر کے کناروں پر پھیلے کچرے کے ڈھیروں کے پاس چند بچے اپنی عمر سے کہیں بڑی ذمہ داری اٹھائے کھڑے تھے۔ کوئی کاغذ چن رہا تھا، کوئی خالی بوتلیں جمع کر رہا تھا اور کوئی اس امید میں تھیلے میں ہاتھ ڈال رہا تھا کہ شاید کوئی ایسی چیز مل جائے جس سے گھر میں چولہا جل سکے۔ ان کے چہروں پر بچپن کی شوخی نہیں، بھوک کی خاموشی تھی۔
میں کچھ دیر وہاں کھڑا انہیں دیکھتا رہا۔ ذہن میں ایک سوال بار بار اٹھتا تھا: جس معاشرے میں صبر کو عظمت اور محنت کو عبادت کہا جاتا ہے، وہاں ان بچوں کے حصے میں تعلیم، کھیل اور خواب کیوں نہیں آئے؟ ان کے حصے میں تو کچرے کے ڈھیر، سرد راتیں اور خالی پیٹ آیا تھا۔
اسی دوران ایک رکشہ میرے سامنے سے گزرا۔ اس کے پیچھے دو جملے لکھے تھے: ’’صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے‘‘ اور ’’وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔‘‘ میں ان الفاظ کو دیکھ کر سوچنے لگا کہ یہ نصیحت کس کے لیے ہے؟ اس غریب کے لیے جو ساری عمر صبر کرتا ہے، یا اس طاقت ور کے لیے جو وقت کو اپنی مٹھی میں قید کرکے دوسروں کے حصے کے وسائل بھی سمیٹ لیتا ہے؟
غریب کو کہا جاتا ہے کہ محنت کرو، حالات بدل جائیں گے؛ بچوں کو پڑھاؤ، مستقبل روشن ہوگا؛ قانون کا احترام کرو، انصاف ضرور ملے گا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ کسی کے لیے راستے سفارش سے کھلتے ہیں، کسی کے لیے اختیار ذاتی مفاد کا وسیلہ بن جاتا ہے اور کوئی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے عمر بھر جدوجہد کرتا رہتا ہے۔ یوں ایک طبقے کو صبر کی تلقین کی جاتی ہے، جبکہ دوسرا طبقہ وسائل سمیٹنے میں وقت ضائع نہیں کرتا۔
میں شہر سے باہر نکلا تو سبزیوں کے کھیتوں میں چند بچے اپنے باپ کے ساتھ سردی میں کام کر رہے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں کتابیں نہیں، سبزیوں کے گٹھے تھے۔ شہر کے ہوٹلوں میں کام کرنے والے بعض بچے سڑکوں پر گاڑیوں کے پیچھے دوڑتے پھرتے تھے، اس امید میں کہ شاید کسی صاحبِ حیثیت شخص سے ان کے ہوٹل کے لیے کھانے کا کوئی آرڈر مل جائے۔ روزی کی تلاش میں بھاگتے ان معصوم بچوں کو شاید یہ احساس بھی نہیں تھا کہ تیز رفتار گاڑی کے سامنے ایک لمحے کی لغزش ان کی زندگی کا چراغ ہمیشہ کے لیے بجھا سکتی ہے۔ ان کے لیے ہر گزرتی گاڑی روزی کی ایک امید تھی، مگر اس امید کے پیچھے چھپا خطرہ دیکھنے اور ان کے تحفظ کی ذمہ داری اٹھانے والا کوئی دکھائی نہیں دیتا تھا۔
کچھ بچے ہوٹلوں میں برتن دھوتے اور میزیں صاف کرتے تھے، کچھ دوسروں کے گھروں میں کام کرکے اپنے خاندان کا پیٹ پالتے تھے۔ شہر سے دور بعض بچے معمولی معاوضے کے عوض مویشی چرانے پر مجبور تھے۔ کہیں ایک مزدور باپ کا بچہ گھر کا خرچ چلانے کے لیے اپنی عمر سے بڑی ذمہ داری اٹھائے ہوئے تھا، تو کہیں خوش حال گھرانوں کے بچے وسائل کی فراوانی میں بے فکر زندگی گزار رہے تھے۔
یہ صرف غربت اور امارت کا فرق نہیں تھا؛ یہ دو مختلف دنیائیں تھیں۔ ایک دنیا میں بچوں کا مستقبل کتابوں، کھیلوں اور خوابوں سے بنتا ہے، دوسری دنیا میں ان کا بچپن مزدوری، بھوک اور مجبوری کی نذر ہو جاتا ہے۔
لیکن اس صورتِ حال کے ذمہ دار صرف وہ حالات نہیں تھے جنہوں نے غریب خاندانوں کو بے بس کیا۔ معاشرے میں ایسے لوگ بھی تھے جو ان ناانصافیوں کو معمول بنانے میں اپنا کردار ادا کرتے تھے۔ وہ بھوک کو قسمت، محرومی کو مقدر اور ظلم کے سامنے خاموشی کو دانش مندی قرار دیتے تھے۔ ہر نئی ناانصافی کے لیے جواز تراشا جاتا، سوال اٹھانے والوں کو ناپسند کیا جاتا اور طاقت ور کے سامنے جھکنے کو حقیقت پسندی کا نام دیا جاتا۔
یہی وہ طرزِ فکر تھا جو معاشرے کو بدلنے کے بجائے اسے اس کے بگڑے ہوئے حالات سے سمجھوتا کرنا سکھاتا تھا۔ جب لوگ ظلم کو ظلم کہنا چھوڑ دیں اور محرومی کو زندگی کا لازمی حصہ سمجھنے لگیں تو ناانصافی صرف طاقت ور کے ہاتھ میں نہیں رہتی، اسے خاموشی اور مصلحت سے سہارا دینے والے بھی اس کی بقا میں شریک ہو جاتے ہیں۔
میرے ذہن میں سیاست کا سوال بھی ابھرا۔ کیا سیاست دان واقعی معاشرے کی ضروریات، عوام کے شعور اور اجتماعی خواہشات سے جنم لیتے ہیں، یا بعض اوقات انہیں عوام کے بجائے دوسرے طاقت ور مراکز کی مرضی سے آگے لایا جاتا ہے؟ جب قیادت کا راستہ عوام کے درمیان سے گزرنے کے بجائے بند کمروں اور مفادات کے جوڑ توڑ سے طے ہونے لگے تو عوام کا ووٹ تو اہم رہتا ہے، مگر ان کی بھوک، بے روزگاری اور بچوں کا مستقبل پس منظر میں چلا جاتا ہے۔
مسئلہ صرف کسی ایک سیاست دان یا جماعت کا نہیں، بلکہ اس طرزِ سیاست کا ہے جس میں عوامی نمائندگی کے ساتھ جواب دہی کمزور پڑ جائے اور اقتدار کا اصل مقصد لوگوں کی زندگی بہتر بنانے کے بجائے اختیار برقرار رکھنا بن جائے۔ جب تک عوام کو قیادت کے انتخاب، اس کے احتساب اور فیصلوں پر اثرانداز ہونے کے حقیقی مواقع نہیں ملتے، تب تک چہرے بدلنے سے بنیادی مسائل حل نہیں ہوتے۔
یہی محرومی آہستہ آہستہ معاشرے کے اندر زہر کی طرح پھیلتی ہے۔ ایک طرف بھوک اور بے روزگاری نوجوانوں سے امید چھینتی ہیں، دوسری طرف طاقت اور دولت میں ڈوبا ہوا طبقہ قانون اور اخلاقی ذمہ داری سے بے نیاز ہونے لگتا ہے۔ پھر بے اعتمادی، غصہ اور عدم برداشت بڑھتے ہیں۔ معاشرہ بظاہر چلتا رہتا ہے، بازار آباد رہتے ہیں اور ترقی کے دعوے بھی ہوتے ہیں، مگر اندر ہی اندر انصاف، اعتماد اور اجتماعی ذمہ داری کی بنیادیں کھوکھلی ہونے لگتی ہیں۔
یہ ایک ایسے سرطان کی مانند ہے جو ابتدا میں دکھائی نہیں دیتا، مگر بروقت علاج نہ ہو تو پورے جسم کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ معاشرے کا یہ سرطان اس وقت شدت اختیار کرتا ہے جب غربت کو تقدیر، قانون شکنی کو طاقت اور خاموشی کو مصلحت سمجھ لیا جائے۔
مجھے ایک ایسے بچے کا واقعہ یاد آیا جس کی وڈیو سامنے آنے کے بعد وزیراعلیٰ بلوچستان نے اس کی کفالت کی ذمہ داری اٹھانے کا اعلان کیا۔ یتیم منیر احمد، اس کے چار بہن بھائیوں اور ان کی والدہ کے لیے یہ قدم امید کی ایک کرن تھا۔ کسی مجبور خاندان کا سہارا بننا قابلِ قدر عمل ہے، مگر اس واقعے نے ایک بڑا سوال بھی اٹھایا: اگر ایک بچے کی محرومی دور کرنے کے لیے اس کی وڈیو کا منظرِعام پر آنا ضروری ہو تو ان بچوں کا کیا ہوگا جن کی حالت کسی کیمرے میں محفوظ نہیں ہوتی؟
ریاست کی ذمہ داری کسی ایک بچے کی خبر سامنے آنے پر حرکت میں آنا نہیں، بلکہ ایسا نظام قائم کرنا ہے جس میں کوئی بچہ بھوک کے باعث مزدوری پر مجبور نہ ہو۔ تعلیم، خوراک، علاج اور تحفظ ہر بچے کا حق ہونا چاہیے۔ مستحق خاندانوں کی کفالت، بچوں کی مزدوری کے خلاف قانون پر عمل درآمد اور باعزت روزگار کی فراہمی کسی فرد کا احسان نہیں، ریاست کی ذمہ داری ہے۔
میں پھر اسی رکشے کے جملوں کی طرف لوٹ آیا: ’’صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے‘‘ اور ’’وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔‘‘ صبر اپنی جگہ ایک خوبی ہے، مگر صبر کا مطلب ظلم کو قبول کرنا نہیں۔ نہ ہی وقت گزرنے سے محرومیاں خود بخود ختم ہوتی ہیں۔ تبدیلی کے لیے انصاف، ذمہ داری اور اجتماعی شعور ضروری ہیں۔
میں نے آخری بار ان بچوں کی طرف دیکھا۔ ایک بچے نے کچرے کے ڈھیر سے خالی بوتل اٹھائی، اسے اپنے تھیلے میں رکھا اور اگلے ڈھیر کی طرف چل پڑا۔ اس کے قدم چھوٹے تھے، مگر کندھوں پر زندگی کا بوجھ بہت بڑا تھا۔ شاید اسے معلوم بھی نہ تھا کہ دنیا میں ایسے لوگ موجود ہیں جو صبر، ترقی، جمہوریت اور خوش حالی پر بڑی بڑی تقریریں کرتے ہیں۔
میں سوچتا رہا کہ اس بچے کا مستقبل کون لکھے گا؟ وہ والدین جو خود غربت کے ہاتھوں مجبور ہیں؟ وہ سیاست دان جو عوام کے نام پر اقتدار حاصل کرتے ہیں؟ وہ ادارے جن کا فرض شہریوں کے حقوق کی حفاظت ہے؟ یا وہ لوگ جو معاشرے کو ناانصافی کا عادی بنا کر اپنی مصلحتوں کو محفوظ رکھتے ہیں؟
جواب شاید سب کے پاس ہے، مگر ذمہ داری قبول کرنے کے لیے کوئی تیار نہیں۔
معاشرے اچانک تباہ نہیں ہوتے۔ پہلے بچوں سے بچپن چھینا جاتا ہے، پھر نوجوانوں سے امید، پھر عوام سے اعتماد، اور آخر میں ریاست سے اخلاقی جواز۔ جب بھوک کو مقدر، ظلم کو مصلحت اور خاموشی کو دانش مندی بنا دیا جائے تو سرطان کسی ایک حصے تک محدود نہیں رہتا۔
وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ سوال یہ نہیں کہ غریب کب تک صبر کرے گا؛ اصل سوال یہ ہے کہ معاشرہ کب تک اپنی آنکھیں بند رکھے گا؟ کیونکہ جس دن محرومی کی آگ اجتماعی بے اعتمادی میں بدل گئی، اس دن صرف غریب کے گھر کا چولہا نہیں بجھے گا، پورے معاشرے کی بنیادیں لرزنے لگیں گی۔