ملک اس وقت جس سیاسی اور معاشی بے یقینی سے دوچار ہے، اس کا تقاضا ہے کہ حکومت ہر اہم معاملے پر اپنا مؤقف واضح، دوٹوک اور عوام کے سامنے رکھے۔ ایک طرف 28ویں آئینی ترمیم کی باتیں ہو رہی ہیں، دوسری طرف مختلف سیاسی جماعتوں سے مذاکرات، معاہدوں اور رعایتوں کے امکانات زیرِ بحث ہیں۔ کہیں بانی تحریک انصاف کی رہائی کا معاملہ سامنے آتا ہے، کہیں ان کی بہنوں کی رہائی اور کہیں جیل میں مزید سہولیات دینے کی بات کی جاتی ہے۔ ایسے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ حکومت کی اصل پالیسی کیا ہے اور ان مذاکرات کا مقصد کیا ہے؟
وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ کا یہ کہنا کہ 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو حاصل اختیارات واپس نہیں لیے جائیں گے، جبکہ صحت، تعلیم اور آبادی سے متعلق آئینی وضاحتوں کے لیے صوبوں اور پیپلز پارٹی سے اتفاق رائے ضروری ہوگا، اپنی جگہ اہم بیان ہے۔ لیکن جب 28ویں ترمیم کے خدوخال، اس کی ضرورت، مجوزہ تبدیلیوں اور ان کے ممکنہ اثرات کے بارے میں واضح تفصیلات سامنے نہیں آتیں تو سوالات جنم لینا فطری ہے۔ اگر صوبائی اختیارات متاثر نہیں ہوں گے تو حکومت مجوزہ ترمیم کا مکمل مسودہ اور اس کے مقاصد عوام کے سامنے کیوں نہیں رکھتی؟ اور اگر حکومت کے پاس مطلوبہ پارلیمانی اکثریت نہیں تو کیا پہلے سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے یا ابھی خود حکومتی سطح پر پالیسی طے ہونا باقی ہے؟
یہ بھی ضروری ہے کہ سیاسی مذاکرات کو رہائی، رعایتوں اور شخصی مفادات کی بحث تک محدود نہ رکھا جائے۔ اگر کسی سیاسی رہنما یا ان کے اہلِ خانہ کی رہائی کا معاملہ ہے تو اس کی قانونی بنیاد اور متعلقہ عدالتی احکامات واضح ہونے چاہییں۔ اگر حکومت کسی سیاسی جماعت کے ساتھ معاہدے کی بات کرتی ہے تو اس معاہدے کے نکات، شرائط اور قومی مفاد سے اس کے تعلق کی وضاحت بھی ضروری ہے۔ حکومت کا مؤقف ایک دن کچھ اور اور دوسرے دن کچھ اور دکھائی دے تو سیاسی بے یقینی مزید بڑھتی ہے۔
عوام پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ ایسے حالات میں آئینی ترمیم محض سیاسی جماعتوں کے درمیان عددی اکثریت یا اقتدار کی سودے بازی کا معاملہ نہیں بننی چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ مجوزہ ترمیم کا مسودہ، اس کے مقاصد اور صوبوں پر اس کے اثرات واضح کرے، متعلقہ اداروں کے آئینی دائرۂ اختیار کی وضاحت کرے اور تمام پارلیمانی جماعتوں کو باضابطہ مشاورت میں شامل کرے۔
جمہوری نظام میں مذاکرات اور اتفاق رائے اہم ہیں، لیکن ان کی کامیابی کا انحصار شفافیت، واضح پالیسی اور عوامی اعتماد پر ہوتا ہے۔ **اصل ضرورت یہ نہیں کہ آئینی ترمیم کی بات کتنی بار کی جاتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ حکومت بتائے کہ ترمیم کیوں ضروری ہے، اس سے کیا بدلے گا اور عوام و صوبوں کو اس سے کیا فائدہ پہنچے گا۔** جب تک ان سوالات کے واضح جواب سامنے نہیں آتے، سیاسی بیانات اور مذاکرات کی خبریں عوامی اضطراب کم کرنے کے بجائے مزید سوالات کو جنم دیتی رہیں گی۔
