انٹرٹینمنٹ ۲۶ اکتوبر ۲۰۲۶

تہران سے ماسکو تک سفارت کاری؛ خطہ جنگ کے دہانے پر، پاکستان کا اہم کردار

تحریر: سید انور شاہ

مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطے کے امن کے لیے سنگین سوال بن چکی ہے۔ فروری 2026 میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے اثرات اب وسیع تر علاقائی سلامتی، توانائی کی ترسیل اور عالمی معیشت تک پہنچ چکے ہیں۔ ایسے حالات میں پاکستان کی سفارتی کوششیں اہمیت اختیار کر گئی ہیں، خصوصاً فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورۂ ایران کے بعد تہران میں ہونے والا چار ملکی اجلاس۔
26 اکتوبر 2026 کو تہران میں پاکستان، ایران، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام نے علاقائی امن و سلامتی پر مذاکرات کیے اور رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اجلاس کی تجویز عاصم منیر سے منسوب کی۔ روئٹرز کے مطابق اس اجلاس کا بنیادی مقصد علاقائی کشیدگی کم کرنا اور مذاکرات کے ذریعے نئی فوجی محاذ آرائی کو روکنے کے امکانات تلاش کرنا تھا۔ یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان ایران کے ساتھ مشترکہ سرحد رکھتا ہے اور خلیجی ممالک سے اس کے اقتصادی و توانائی کے مفادات وابستہ ہیں۔ کسی نئی جنگ کی صورت میں پاکستان کو سرحدی سلامتی، تیل کی قیمتوں اور معاشی دباؤ جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اسی دوران امریکہ اور اسرائیل کے مؤقف میں ایک اہم پہلو بھی سامنے آیا ہے۔ 26 اکتوبر کو روئٹرز نے رپورٹ کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو کی حمایت کرتے ہوئے ایران کے خلاف شروع کی گئی کارروائی کو مکمل کرنے کی بات کی، جبکہ اسرائیلی وزیرِاعظم نے بھی ایران کے خلاف مزید کارروائی کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس پہلے ہی واضح کر چکا تھا کہ امریکہ 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔ اس صورتِ حال کو امریکہ اور اسرائیل کے درمیان مکمل اختلاف کہنا درست نہیں، لیکن یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی حمایت اور فوری فوجی کارروائی کے فیصلوں میں فرق ہو سکتا ہے۔ اگر واشنگٹن کی جانب سے فوری کارروائی مؤخر رکھنے کی پالیسی برقرار رہتی ہے تو اسے سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم انتخابات کے بعد جنگ دوبارہ شروع ہونے کا امکان بھی زیرِ بحث رہا ہے، اس لیے موجودہ وقفے کو مستقل امن کی ضمانت نہیں سمجھنا چاہیے۔
اب توجہ 27 اکتوبر 2026 کو ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے طے شدہ ملاقاتوں پر مرکوز ہے۔ کریملن نے ان ملاقاتوں کی تصدیق کی ہے۔ روس کے ایران کے ساتھ تعلقات اور قطر کے سفارتی و ثالثی روابط ان مذاکرات کو اہم بناتے ہیں۔ تاہم ملاقاتوں کے انعقاد اور کسی معاہدے کے طے پانے میں فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ فی الحال ان رابطوں سے جنگ بندی یا کسی حتمی امن سمجھوتے کا نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا، البتہ یہ امید ضرور کی جا سکتی ہے کہ متعلقہ قیادتیں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کے امکانات پر غور کریں گی۔
اس پورے منظرنامے میں پاکستان کے سامنے ایک واضح چیلنج ہے: کیا وہ ایران، سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ اپنے روابط استعمال کرکے ایک ایسے علاقائی اتفاقِ رائے کی بنیاد رکھ سکتا ہے جو جنگ کے پھیلاؤ کو روکے؟ کیا روس اور قطر کے سفارتی روابط کو بھی اس مقصد کے لیے بروئے کار لایا جا سکتا ہے؟ ان سوالات کا جواب آنے والے مذاکرات سے ملے گا۔ پاکستان کی کامیابی کا اصل معیار اجلاسوں کی تعداد نہیں بلکہ قابلِ عمل مذاکرات، فوجی تصادم کی روک تھام اور تمام متعلقہ فریقوں کے لیے قابلِ قبول ضمانتوں کا حصول ہوگا۔
تہران سے ماسکو تک جاری سفارتی سرگرمیاں ایک اہم موقع فراہم کرتی ہیں، لیکن کسی بڑی فوجی کارروائی کے فوری آغاز، ایران کی جانب سے کسی اسلامی ملک کے خلاف جوابی کارروائی نہ کرنے کی ضمانت یا کسی طے شدہ امن معاہدے کے دعوے کے لیے مستند ثبوت ضروری ہیں۔ خطے کو اس وقت طاقت کے مظاہروں سے زیادہ ایسی حکمتِ عملی درکار ہے جو ریاستوں کی خودمختاری کا احترام کرے، شہری آبادی کو جنگ کے تباہ کن اثرات سے محفوظ رکھے اور اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی راہ کھولے۔ پاکستان، روس اور قطر کی سفارتی کوششیں اسی وقت مؤثر ثابت ہوں گی جب وہ عارضی وقفے کو پائیدار امن میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوں گی۔