قوموں کی تاریخ محض حکمرانوں، حکومتوں اور اقتدار کی تبدیلیوں کا نام نہیں بلکہ ان نسلوں کی جدوجہد، قربانیوں اور فکری مزاحمت سے تشکیل پاتی ہے جو اپنے عہد کے جبر کے سامنے کھڑی ہوتی ہیں۔ پشتون قومی تحریک کی تاریخ بھی ایک صدی پر محیط ایسے ہی سیاسی سفر کی داستان ہے جس کی بنیاد تعلیم، سماجی اصلاح، قومی بیداری، امن، عدم تشدد اور سیاسی حقوق کے تصور پر رکھی گئی۔ خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان نے برطانوی استعمار کے دور میں خدائی خدمتگار تحریک کے ذریعے پشتون معاشرے کو منظم کیا اور یہ تصور پیش کیا کہ حقیقی آزادی صرف بیرونی اقتدار کے خاتمے کا نام نہیں بلکہ جہالت، خوف، غربت، باہمی دشمنی اور سیاسی بے شعوری سے نجات بھی آزادی کا لازمی حصہ ہے۔ خدائی خدمتگاروں نے برطانوی نوآبادیاتی نظام کے خلاف منظم اور پرامن مزاحمت کی، قصہ خوانی بازار کا سانحہ اس جدوجہد کی عظیم قربانیوں کی علامت بنا، جبکہ تعلیم، پشتو زبان و ادب، سماجی اصلاح اور سیاسی شعور اس تحریک کے بنیادی ستون رہے۔ برصغیر کی آزادی کی وسیع تحریک میں خدائی خدمتگاروں کی شرکت، انڈین نیشنل کانگریس کے ساتھ سیاسی تعاون اور باچا خان و گاندھی کی عدم تشدد پر مبنی قربت اس حقیقت کی عکاس تھی کہ برطانوی استعمار کے خلاف مزاحمت کئی سیاسی اور فکری دھاروں پر مشتمل تھی۔ 1947 کی تقسیم کے بعد باچا خان کا سیاسی سفر ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا اور پاکستان کے اندر جمہوریت، وفاقیت، صوبائی خودمختاری اور سیاسی حقوق کی جدوجہد جاری رہی؛ بابڑہ کا سانحہ اسی دور کی ایک المناک یاد ہے۔ یوں آزادی کے لیے شروع ہونے والی تحریک نئی ریاست کے اندر آئینی اور جمہوری حقوق کی جدوجہد میں تبدیل ہوگئی۔
خان عبدالولی خان نے باچا خان کی سیاسی میراث کو پارلیمانی سیاست میں آگے بڑھایا اور نیشنل عوامی پارٹی کے پلیٹ فارم سے وفاقی پارلیمانی نظام، صوبائی خودمختاری، جمہوری حقوق اور مختلف قومیتوں کے درمیان آئینی توازن کے سوال کو قومی سیاست کا حصہ بنایا۔ 1970 کے انتخابات کے بعد بلوچستان اور اس وقت کے صوبہ سرحد میں نیشنل عوامی پارٹی نے حکومت سازی میں اہم کردار ادا کیا، تاہم مرکز اور پارٹی کے درمیان اختلافات شدت اختیار کرتے گئے اور 1975 میں نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی عائد کردی گئی۔ بعدازاں 1986 میں عوامی نیشنل پارٹی ایک نئے سیاسی پلیٹ فارم کے طور پر سامنے آئی اور اس نے باچا خان کی عدم تشدد، جمہوریت، قومی حقوق اور صوبائی خودمختاری کی روایت کو آگے بڑھانے کا دعویٰ کیا۔ *اسفندیار ولی خان کی قیادت میں یہ جدوجہد ایک ایسے دور میں داخل ہوئی جب خیبر پختونخوا دہشت گردی اور انتہاپسندی کی شدید لپیٹ میں تھا؛ اے این پی کے کارکنوں اور رہنماؤں نے بھی بھاری قربانیاں دیں، مگر پارٹی نے سیاسی عمل، جمہوریت، امن اور عدم تشدد کے اپنے بنیادی مؤقف کو برقرار رکھا۔ اسی دور میں صوبائی شناخت اور آئینی اختیارات کا سوال بھی قومی سیاست میں نمایاں رہا، خصوصاً خیبر پختونخوا کا نام تبدیل کرنے اور اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد صوبائی اختیارات کے فروغ کو اے این پی اپنی طویل سیاسی جدوجہد کے اہم مراحل میں شمار کرتی ہے۔ آج ایمل ولی خان اسی سیاسی تسلسل کی نئی نسل کی نمائندگی کررہے ہیں، مگر ان کے سامنے باچا خان کے دور سے مختلف چیلنجز ہیں؛ نوجوانوں کی تعلیم و روزگار، سیاسی نمائندگی، امن، معاشی پسماندگی، وسائل کی منصفانہ تقسیم، صوبائی حقوق اور وفاقی تعلقات اکیسویں صدی کے نئے سوالات ہیں، جن کا جواب محض ماضی کی سیاسی یادوں سے نہیں بلکہ اسی فکر کو موجودہ حالات کے تقاضوں سے جوڑ کر دینا ہوگا۔
پشتون قومی تحریک کی صد سالہ تاریخ دراصل محض ایک جماعت یا سیاسی خاندان کی تاریخ نہیں بلکہ ایک ایسے فکری سفر کی داستان ہے جو برطانوی استعمار کے خلاف آزادی کی جدوجہد سے شروع ہوکر برصغیر کی سیاسی بیداری، قیامِ پاکستان کے بعد وفاقی و آئینی حقوق، صوبائی خودمختاری، پارلیمانی جمہوریت اور دہشت گردی کے خلاف سیاسی مزاحمت تک پہنچا ہے۔ باچا خان نے تعلیم، اصلاحِ معاشرہ اور عدم تشدد کو مزاحمت کی بنیاد بنایا، ولی خان نے اسی فکر کو پارلیمانی اور وفاقی سیاست میں آگے بڑھایا، اسفندیار ولی خان نے دہشت گردی کے عہد میں جمہوری سیاست اور امن کے مؤقف کو برقرار رکھا اور ایمل ولی خان کے سامنے اب اس ورثے کو نئی نسل کے مسائل سے جوڑنے کا تاریخی مرحلہ ہے۔ شہدا اور اکابرین کو خراجِ عقیدت صرف ریفرنسوں، نعروں اور تقریروں تک محدود نہیں ہونا چاہیے؛ ان کی جدوجہد کا حقیقی تسلسل تعلیم، سیاسی شعور، برداشت، امن، عدم تشدد، جمہوری رویوں، آئینی حقوق اور عوامی خدمت کے فروغ میں ہے۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ استعمار طاقت کے ذریعے زمین پر قبضہ کرسکتا ہے مگر قوم کے شعور کو ہمیشہ غلام نہیں رکھ سکتا، اور وہی سیاسی تحریکیں زندہ رہتی ہیں جو اپنے شہدا کی قربانیوں کو محض ماضی کا نوحہ بنانے کے بجائے مستقبل کی تعمیر کا عزم بناتی ہیں۔ باچا خان سے ولی خان، اسفندیار ولی خان سے ایمل ولی خان تک کا یہ سفر اسی سیاسی شعور، قربانی، مزاحمت اور نسل در نسل منتقل ہونے والی امید کی داستان ہے۔
