اداریہ ۲۸ ستمبر ۲۰۲۶

بلوچستان کا مسئلہ: بلوچ، پشتون حد بندی سے سیاسی حل کی طرف

بلوچستان کے موجودہ بحران کو اگر قیامِ پاکستان کے وقت کے بلوچ سیاسی جذبے، صوبائی خودمختاری کے مطالبے اور تاریخی حقائق کی روشنی میں دیکھا جاتا تو شاید آج کے بہت سے مسائل اس شدت کے ساتھ سامنے نہ آتے۔ ون یونٹ کا قیام 1955 میں بلوچستان سمیت مغربی پاکستان کی مختلف اکائیوں کو ایک صوبے میں ضم کرنے کا ذریعہ بنا، جبکہ 1970 میں ون یونٹ کے خاتمے کے بعد موجودہ بلوچستان صوبے کی تشکیل ہوئی۔ تاریخی حوالوں کے مطابق نئی صوبائی حد بندی میں پشتون اکثریتی اور بلوچ ریاستوں پر مشتمل بلوچستان صوبہ بنا، جس طرح پشتون اکثریتی علاقوں کو بلوچستان میں اسی طرح بعض بلوچ اکثریتی علاقے سندھ اور پنجاب میں شامل کیا گیا ؛ یوں ون یونٹ کے خاتمے کے باوجود قومی و علاقائی شناخت کا مسئلہ مکمل طور پر حل نہ ہوسکا۔

اس تاریخی حقیقت کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ بلوچ اور پشتون سیاسی قوتیں طویل عرصے تک ایک دوسرے کی حریف نہیں بلکہ کئی مواقع پر سیاسی شراکت دار بھی رہی ہیں۔ نیشنل عوامی پارٹی نے بلوچ اور پشتون قیادت کو ایک سیاسی پلیٹ فارم پر جمع کیا اور 1970 کے انتخابات کے بعد بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کی مخلوط حکومت قائم ہوئی، جس میں میر غوث بخش بزنجو گورنر اور سردار عطاء اللہ مینگل وزیراعلیٰ بنے۔ اس لیے آج بلوچستان کے مسئلے کو بلوچ بمقابلہ پشتون کے زاویے سے دیکھنے کے بجائے اس بنیادی سوال پر غور ضروری ہے کہ کیا ایسی انتظامی و سیاسی حد بندی، جو دونوں قوموں کی تاریخی، جغرافیائی اور آبادیاتی حقیقتوں کو تسلیم کرے، باہمی اعتماد کی بحالی کا راستہ بن سکتی ہے؟ حالیہ عرصے میں نیشنل پارٹی کی قیادت نے نئے صوبوں یا انتظامی اکائیوں کے معاملے میں عوام کی رضامندی کو بنیادی شرط قرار دیتے ہوئے بلوچستان کے پشتون علاقوں کی تاریخی حیثیت کا حوالہ دیا ہے۔

2013 سے 2018 کا دور بھی اس حوالے سے قابلِ غور ہے۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی وزارتِ اعلیٰ کے زمانے میں بلوچ اور پشتون سیاسی قیادت ایک ہی صوبائی حکومت کے اندر موجود تھی اور بلوچستان میں سیاسی مفاہمت، مذاکرات اور مشترکہ سیاسی عمل کی کوششیں سامنے آئیں۔ 2013 میں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے تمام فریقوں سے مذاکرات کی حمایت کی اور حکومت نے بلوچ، اور پشتون رہنماؤں پر مشتمل مذاکراتی کمیٹی بنانے کا فیصلہ بھی کیا تھا۔ اس دور کی سیاسی فضا میں اگر بلوچ اور پشتون علاقوں کی باہمی رضامندی سے انتظامی حد بندی، صوبائی اختیارات کی تقسیم اور مستقبل کے آئینی بندوبست پر باقاعدہ مذاکرات شروع ہوجاتے تو آج کے بحران کی نوعیت مختلف ہوسکتی تھی۔ یہ بات بہرحال ایک تاریخی امکان ہے، ثابت شدہ نتیجہ نہیں۔

آج نیشنل پارٹی کی قیادت جس سیاسی مکالمے، آئین کی بالادستی اور بلوچستان کی سیاسی قوتوں کو مشترکہ نکات پر جمع کرنے کی بات کر رہی ہے، اسے محض موجودہ انتظامی بحران تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ نیشنل پارٹی اگر واقعی بلوچستان کے مسئلے کا سیاسی حل چاہتی ہے تو اسے ایک جامع بلوچستان سیاسی مفاہمتی پالیسی پیش کرنی چاہیے جس کا پہلا مرحلہ بلوچ اور پشتون اکثریتی علاقوں کی تاریخی، جغرافیائی، آبادیاتی اور انتظامی بنیادوں پر غیر جانب دار کمیشن کے ذریعے نقشہ تیار کرنا ہو؛ دوسرا مرحلہ بلوچ اور پشتون سیاسی جماعتوں، قبائلی و سماجی نمائندوں اور متعلقہ علاقوں کے عوام سے مشاورت ہو؛ اور تیسرا مرحلہ عوامی رضامندی کی بنیاد پر آئینی حل تلاش کرنا ہو۔ اس کا مقصد کسی قوم کو دوسرے سے جدا کرنا نہیں بلکہ دونوں قوموں کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہونے سے روکنا، ان کی سیاسی شناخت اور انتظامی حقوق کو تسلیم کرنا اور ایسا بندوبست پیدا کرنا ہونا چاہیے جسے دونوں جانب کے عوام قبول کریں۔ چونکہ صوبائی حدود میں تبدیلی آئینی معاملہ ہے، اس کے لیے آئین کے آرٹیکل 239(4) کے تحت متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی منظوری سمیت آئینی طریقۂ کار درکار ہے۔

بلوچستان کا مسئلہ بندوق، طاقت اور محض انتظامی فیصلوں سے حل نہیں ہوگا؛ اس کے لیے تاریخ کے ان سوالات کا سامنا کرنا ہوگا جنہیں کئی دہائیوں سے مؤخر کیا جاتا رہا ہے۔ نیشنل پارٹی کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ بلوچ حقوق کی اپنی سیاسی روایت کو پشتون عوام کے جائز حقِ شناخت اور سیاسی رضامندی کے ساتھ جوڑ کر بلوچستان میں مستقل سیاسی مفاہمت کا نیا خاکہ پیش کرے۔ اگر بلوچ اور پشتون اپنے مستقبل کی حد بندی، اختیارات اور سیاسی بندوبست کا فیصلہ باہمی رضامندی سے کرنے کے عمل میں شریک ہوں تو اختلاف کو تصادم کے بجائے ایک آئینی اور جمہوری مسئلے میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ یہی شاید وہ راستہ ہے جس سے بلوچستان کے بحران کو ایک نئے سیاسی باب میں داخل کرنے کی سنجیدہ کوشش شروع ہوسکتی ہے۔