پاکستان کو دہائیوں سے جس طبقے نے ریاستی وسائل کو شیرِ مادر سمجھ کر استعمال کیا، اب اس طرزِ حکمرانی پر نظرثانی کا وقت آچکا ہے۔ اگر معاشی اور سماجی ناہمواری کا یہ سلسلہ اسی رفتار سے جاری رہا تو عوام میں محرومی، بے اعتمادی اور بے چینی مزید گہری ہوسکتی ہے، جس کے نتائج ریاست، معیشت اور معاشرے تینوں کے لیے سنگین ہوں گے۔ آئی ایم ایف کی حالیہ دستاویزات بھی پاکستان کے لیے ٹیکس کا دائرہ وسیع کرنے، ٹیکس رعایتوں اور استثنیٰ میں کمی، کم ٹیکس والے شعبوں خصوصاً زرعی آمدن کو مؤثر طور پر نظام میں لانے اور سماجی تحفظ کے پروگراموں کو مضبوط بنانے کی ضرورت اجاگر کرتی ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں معاشی اصلاحات کا بوجھ اکثر ایسے طبقات تک منتقل ہوجاتا ہے جو پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور کم آمدن کے دباؤ میں ہیں، جبکہ طاقتور معاشی مفادات کو حاصل مراعات اور ٹیکس استثنیٰ پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ ایک پائیدار ریاستی نظام کے لیے ضروری ہے کہ ٹیکس کا بوجھ آمدن اور استطاعت کے مطابق منصفانہ تقسیم ہو، ٹیکس چوری اور غیر ضروری استثنیٰ کا خاتمہ کیا جائے، جبکہ کم آمدن والے شہریوں کے لیے صحت، تعلیم، روزگار اور سماجی تحفظ کو حقیقی ترجیح دی جائے۔ آئی ایم ایف کی اپنی تازہ رپورٹ میں بھی ٹیکس بیس کی تنگی کو مسئلہ قرار دیتے ہوئے زرعی شعبے سمیت کم ٹیکس والے شعبوں سے محصولات بڑھانے اور سماجی اخراجات میں گنجائش پیدا کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
یہاں ریاستی اداروں اور خصوصاً پالیسی ساز قوتوں کو اپنی ترجیحات پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ ریاست کی مضبوطی صرف بڑے منصوبوں، مالیاتی اعدادوشمار یا قرضوں کے حصول سے نہیں بلکہ عام شہری کے اعتماد سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر ایک طرف مراعات یافتہ طبقات کے مفادات محفوظ رہیں اور دوسری طرف عام آدمی بنیادی ضروریات کے لیے مسلسل دباؤ کا شکار ہو تو معاشی عدم مساوات سیاسی اور سماجی بے چینی کو بڑھا سکتی ہے۔ اس لیے ضرورت کسی انتشار یا تصادم کی نہیں بلکہ بروقت، منصفانہ اور آئینی معاشی اصلاحات کی ہے، تاکہ محرومی کو ریاستی پالیسی کے ذریعے کم کیا جائے اور عوام کو یہ یقین دلایا جائے کہ پاکستان کے وسائل اور مواقع چند طبقات کے لیے نہیں بلکہ تمام شہریوں کے لیے ہیں۔
