کوئٹہ(ویب نیوز) بلوچستان ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے آئینی درخواست نمبر 1162/2026 کا فیصلہ سناتے ہوئے نادرا کی جانب سے درخواست گزاروں کے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز کو یکطرفہ طور پر بلاک کرنے کے اقدام کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دے دیا۔ عدالت نے مہر علی و دیگر کی آئینی درخواست منظور کرتے ہوئے نادرا کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کے بلاک شدہ شناختی کارڈز اور متعلقہ ریکارڈ مرکزی ڈیٹا بیس میں فوری طور پر بحال کیے جائیں۔ درخواست گزاروں کی جانب سے سپریم کورٹ کے وکیل جمیل رمضان دہوار ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ شناختی کارڈز بلاک کرنے سے قبل شوکاز نوٹس اور سماعت کا موقع نہیں دیا گیا، جو بنیادی حقوق سے متعلق آئینی ضمانتوں کے منافی ہے۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق عدالت نے درخواست گزاروں اور ان کے وکیل کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے نادرا کے اقدام کو کالعدم قرار دیتے ہوئے شناختی کارڈز کی بحالی کا حکم جاری کیا۔
