مقامی ۲۲ اگست ۲۰۲۶

80 پولیس اہلکاروں کے تبادلوں پر جام گروپ کا اظہارِ تشویش

بیلہ(ویب نیوز) لسبیلہ اور حب اضلاع سے نوشکی اور خاران میں 80 پولیس افسران اور اہلکاروں کے تبادلوں پر جام گروپ کے رہنما اور لسبیلہ کی معروف قبائلی شخصیت وڈیرہ ماما عبدالرزاق رونجھو نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان تبادلوں کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ موجودہ سکیورٹی صورتحال میں لسبیلہ اور حب پہلے ہی پولیس نفری کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں اور ایسے حساس وقت میں علاقے کے تجربہ کار پولیس افسران اور اہلکاروں کو تین ماہ کے لیے دیگر اضلاع میں منتقل کرنا علاقے کی سکیورٹی کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لسبیلہ اور حب کی شاہراہیں، صنعتی علاقے اور سرحدی مقامات سکیورٹی کے حوالے سے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں اور مقامی پولیس علاقے کے حالات اور عوامی مسائل سے بخوبی واقف ہے، اس لیے ان کی عدم موجودگی میں جرائم کی روک تھام اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ مشکل ہوسکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 80 پولیس افسران اور اہلکاروں کے تبادلوں سے پولیس کے مورال اور امن و امان کی بہتری کے لیے جاری کوششوں پر بھی منفی اثر پڑے گا۔ عبدالرزاق رونجھو نے وزیراعلیٰ بلوچستان، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، پارلیمانی سیکرٹری سیاحت و ثقافت نوابزادہ میر زرین خان مگسی، صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء لانگو، آئی جی بلوچستان اور ڈی آئی جی لسبیلہ ڈویژن سے مطالبہ کیا کہ لسبیلہ اور حب کے 80 پولیس افسران و اہلکاروں کے تبادلے کے احکامات فوری طور پر منسوخ کرکے ان علاقوں میں اضافی پولیس نفری تعینات کی جائے تاکہ موجودہ سکیورٹی چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جاسکے۔