مقامی ۹ اگست ۲۰۲۶

8 اگست کے سانحے کو دس سال مکمل، کوئٹہ سول ہسپتال کے شہداء کی یادیں آج بھی دلوں میں زندہ

کوئٹہ(ویب نیوز)8 اگست کے سانحے کو دس سال گزر چکے ہیں، لیکن 8 اگست 2016 کو کوئٹہ کے سول ہسپتال میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے زخم آج بھی تازہ ہیں۔ بلوچستان کی تاریخ کے اس دردناک سانحے میں صوبے کے متعدد نامور، بہادر اور قانون کی بالادستی کے لیے جدوجہد کرنے والے وکلا، صحافی، عام شہری اور دیگر افراد شہید ہوئے۔ 8 اگست صرف چند خاندانوں کی اپنے عزیزوں سے محرومی کا واقعہ نہیں تھا بلکہ بلوچستان کے قانونی، سیاسی، سماجی اور انسانی شعور پر بھی ایک شدید ضرب تھی۔ سانحے کی دسویں برسی کے موقع پر شہداء، خصوصاً شہید وکلا کو خراج عقیدت پیش کیا گیا، جبکہ ان کے ایصالِ ثواب کے لیے بلوچستان ہائی کورٹ میں قرآن خوانی، فاتحہ خوانی اور دعائیہ تقریبات منعقد ہوئیں، جن میں ہائی کورٹ کے ججز، وکلا، بار روم کے وکلا، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور شہید وکلا کے اہل خانہ نے شرکت کی۔ تقریبات میں شہداء کے درجات کی بلندی، مغفرت اور ان کے اہل خانہ کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی گئی، جبکہ شرکاء نے عہد کیا کہ شہداء کی قربانیوں اور ان کی جدوجہد کو فراموش نہیں کیا جائے گا اور قانون، آئین، انصاف اور جمہوری اقدار کی بالادستی کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ یو این اے کے مطابق 8 اگست 2016 کی صبح بلوچستان بار کونسل کے صدر اور معروف قانون دان بلال انور کاسی کے قتل کے بعد ان کی میت کوئٹہ سول ہسپتال لائی گئی تھی، جہاں بڑی تعداد میں وکلا اپنے ساتھی کی میت دیکھنے اور اپنی قانونی و اخلاقی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے ہسپتال کے ایمرجنسی شعبے کے احاطے میں جمع تھے کہ اسی دوران دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں 70 سے زائد افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔ شہداء میں وکلا کی تعداد زیادہ تھی، جس کے باعث بلوچستان کی قانونی برادری کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا اور ایک ہی واقعے میں متعدد نامور قانون دان دنیا سے رخصت ہوگئے۔ اس سانحے نے نہ صرف کوئٹہ بلکہ پورے ملک کو سوگوار کردیا اور عدالتیں، بار ایسوسی ایشنز، سیاسی جماعتیں، سول سوسائٹی اور معاشرے کے مختلف طبقات طویل عرصے تک غم اور صدمے میں مبتلا رہے۔ 8 اگست کے شہید وکلا میں متعدد ایسے افراد بھی شامل تھے جو عدالتوں میں عوام کے حقوق، قانون کی حکمرانی، آئین کی بالادستی اور انصاف کے لیے آواز بلند کرتے تھے۔ اس واقعے کے باعث متعدد خاندان اپنے سرپرستوں، بھائیوں، بیٹوں، والدین اور دیگر عزیزوں سے محروم ہوگئے۔ سانحے کے بعد بلوچستان کی وکلا برادری نے نہ صرف اپنے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا بلکہ دہشت گردی کے خلاف اپنے عزم کی بھی تجدید کی اور مطالبہ کیا کہ ایسے واقعات کے تمام محرکین، سہولت کاروں اور ذمہ دار افراد کا سراغ لگا کر انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ 8 اگست کے سانحے کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کی نگرانی میں قائم تحقیقاتی کمیشن نے سکیورٹی اقدامات، دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی، تفتیشی نظام، فرانزک سہولیات اور قومی پالیسی کے حوالے سے اہم نکات اٹھائے تھے اور زور دیا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف سکیورٹی آپریشنز تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ انٹیلی جنس نظام کو مضبوط بنانے، فرانزک سہولیات کو وسعت دینے، تحقیقات کا معیار بہتر کرنے، دہشت گردوں کے نیٹ ورکس اور سہولت کاروں کا سراغ لگانے اور ریاستی اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ و تعاون کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے۔ دس سال گزرنے کے باوجود 8 اگست کے سانحے کے حوالے سے متعدد سوالات آج بھی قومی اور صوبائی سطح پر موجود ہیں، جبکہ شہداء کے اہل خانہ اور وکلا برادری بارہا مطالبہ کرتی رہی ہے کہ واقعے کے تمام ذمہ داروں، سہولت کاروں اور معاونت کرنے والے نیٹ ورکس کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور متاثرہ خاندانوں کو مکمل انصاف فراہم کیا جائے۔ شہداء کے اہل خانہ کے لیے یہ سانحہ محض ماضی کی ایک تلخ یاد نہیں بلکہ ایسا درد ہے جو ہر سال 8 اگست کو دوبارہ تازہ ہوجاتا ہے۔ بلوچستان ہائی کورٹ کی تقریبات میں وکلا اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے کہا کہ 8 اگست بلوچستان کی تاریخ کا وہ سیاہ دن ہے جسے قوم کبھی فراموش نہیں کرسکتی، کیونکہ دہشت گردی نے نہ صرف انسانی جانیں لیں بلکہ بلوچستان کی قانونی برادری کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ شہید وکلا کے اہل خانہ نے بھی قرآن خوانی میں شرکت کی اور اپنے عزیزوں کی یادوں نے دس سال قبل پیش آنے والے سانحے کی تلخ یادیں ایک بار پھر تازہ کردیں۔ بلوچستان کی وکلا برادری نے ایک مرتبہ پھر عہد کیا کہ 8 اگست کے شہداء کو فراموش نہیں کیا جائے گا، ان کی قربانیوں کو آنے والی نسلوں تک پہنچایا جائے گا اور قانون و انصاف کی بالادستی کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ شرکاء نے کہا کہ شہداء کی قربانیاں تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں، تاہم ان کا اصل پیغام، یعنی قانون کی حکمرانی، انصاف کی بالادستی، دہشت گردی کے خلاف جدوجہد اور امن کے لیے مسلسل کوششیں، آج بھی زندہ ہیں۔