کوئٹہ(ویب نیوز)جمعیت علمائے اسلام کوئٹہ کے ضلعی امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق، ضلعی جنرل سیکریٹری حاجی عین اللہ شمس، سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد، سرپرست اعلیٰ مفتی محمد روزی خان، مولانا حفیظ اللہ، مولانا محمد سلیمان، حافظ دوست محمد مینگل، مولانا عبدالبصیر، حافظ رشید احمد، حاجی محمد شاہ لالا، مفتی نیک محمد فاروقی اور حاجی نعمت اللہ اچکزئی نے کہا ہے کہ 7 ستمبر 1974 پاکستان کی آئینی اور اسلامی تاریخ کا ایک اہم اور تاریخی دن ہے، کیونکہ اسلام کے مفکر مولانا مفتی محمود، مولانا محمد یوسف بنوری اور دیگر علما کی تاریخی جدوجہد کے نتیجے میں پارلیمنٹ نے پاکستان کے آئین میں دوسری ترمیم کے ذریعے قادیانی گروہ کی غیر مسلم اقلیت کی حیثیت کو آئینی طور پر واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ عقیدہ ختمِ نبوت ہر مسلمان کے بنیادی ایمانی عقائد میں شامل ہے اور اس عقیدے کا تحفظ اسلامی شناخت کا اہم حصہ ہے۔ جمعیت کے رہنماؤں نے کہا کہ 7 ستمبر 1974 علما کی ان انتھک کوششوں اور تاریخی کردار کی یاد تازہ کرتا ہے جو انہوں نے آئینی، قانونی اور پارلیمانی ذرائع سے عقیدہ ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یومِ ختمِ نبوت صرف ایک تاریخی واقعے کی یاد کا دن نہیں بلکہ عہد کی تجدید کا دن بھی ہے، اس لیے علما، خطبا اور عوام کو چاہیے کہ اس موقع پر عقیدہ ختمِ نبوت کی اہمیت اجاگر کریں اور نئی نسل کو علما کی تاریخی جدوجہد اور قربانیوں سے آگاہ کریں۔ انہوں نے نوجوان نسل پر زور دیا کہ رسول اکرم ﷺ کی سیرت کو اپنی زندگی کے لیے عملی نمونہ بنائیں، اتباعِ رسول ﷺ کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں اور فیشن و ثقافت کے نام پر غیر اسلامی رسومات اور رواجوں کی اندھی تقلید سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی کامیابی اسی میں ہے کہ ہم اپنی زندگی قرآن، سنت اور رسول اکرم ﷺ کے اسوۂ حسنہ کے مطابق ڈھالیں اور اپنی اسلامی و قومی شناخت کو مزید مضبوط کریں۔
