مقامی ۹ اگست ۲۰۲۶

کچ موڑ کلی ناصران میں مبینہ پولیس غنڈا گردی، وکیل کی چار دیواری مسمار کیے جانے پر سنگین سوالات

کوئٹہ (ویب نیوز)کچ موڑ کلی ناصران میں جائیداد کے تنازع پر پولیس کی مبینہ کارروائی نے قانون کی بالادستی، شہریوں کے بنیادی حقوق اور پولیس اختیارات کے استعمال پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ایڈووکیٹ حکیم اللہ نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی زیرِ ملکیت و قبضہ جائیداد کی چار دیواری مبینہ طور پر پولیس کی موجودگی میں مسمار کی گئی جبکہ انہیں مسلسل دباؤ اور هراساں کیے جانے کا سامنا ہے۔ د هغه په وینا، مبینہ قبضہ مافیا پولیس اپنے مفادات کے لیے استعمال کر رہی ہے اور انہیں اس قدر دباؤ میں لایا جا رہا ہے کہ وہ اپنی جائیداد اونے پونے داموں فروخت کرنے پر مجبور ہوجائیں۔ ایڈووکیٹ حکیم اللہ نے کہا کہ وہ کسی دباؤ، دھمکی یا مبینہ غیر قانونی اقدام کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کریں گے اور اپنے آئینی و قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے عدالت سمیت ہر متعلقہ فورم سے رجوع کریں گے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر مذکورہ جائیداد کی ملکیت متنازع ہے تو پولیس نے کس قانونی اختیار، تحریری حکم یا مجاز اتھارٹی کی ہدایت پر چار دیواری مسمار کی؟ انہوں نے واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔