کوئٹہ (ویب نیوز) ارکان بلوچستان اسمبلی نے کہا ہے کہ کوئٹہ کراچی شاہراہ کو محفوظ بنانا، بلوچستان کے عوام کو روزگار اور بنیادی سہولیات کی فراہمی جبکہ سرحدی علاقوں میں کاروباری سرگرمیوں کی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ بارڈرز کی مسلسل بندش سے ہزاروں خاندانوں کا روزگار متاثر ہورہا ہے اور عوام کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان خیالات کا اظہار رکن بلوچستان اسمبلی شیخ زرک خان مندوخیل، جماعت اسلامی کے صوبائی امیر اور رکن اسمبلی ڈاکٹر نواز کبزئی نے الگ الگ بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ایک بڑی آبادی کا روزگار سرحدی تجارت، کاروبار اور آمدورفت سے وابستہ ہے، ایسے میں بارڈرز کی مسلسل بندش سے چھوٹے تاجروں، مزدوروں، ٹرانسپورٹرز اور دیگر شعبوں سے وابستہ افراد کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں روزگار کے مواقع محدود ہیں، حکومت کو چاہیے کہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے اور سرحدی علاقوں کے عوام کو متبادل معاشی ذرائع فراہم کیے جائیں تاکہ انہیں معاشی بدحالی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ارکان اسمبلی نے کہا کہ عوام کو صحت، تعلیم، پینے کے صاف پانی، بجلی، گیس اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی ریاست اور حکومت کی ذمہ داری ہے، بلوچستان کے عوام کو دیگر صوبوں کے برابر سہولیات اور مواقع فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بارڈرز کی بندش کے حوالے سے مقامی آبادی اور کاروباری طبقے کے تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے قابلِ عمل پالیسی مرتب کی جائے، قانونی تجارت کو فروغ دیا جائے اور عوام کے روزگار کے ذرائع بحال کیے جائیں۔ ارکان اسمبلی نے کہا کہ بلوچستان کے عوام محب وطن ہیں اور ملک کی ترقی و خوشحالی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں، حکومت کو بھی چاہیے کہ عوام کی مشکلات کا فوری ازالہ کرتے ہوئے انہیں باعزت روزگار اور بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائے۔
