مقامی ۱۴ اگست ۲۰۲۶

کوئٹہ میں یومِ آزادی کا جوش و خروش، 21 توپوں کی سلامی، خصوصی دعائیں اور رنگا رنگ تقریبات

کوئٹہ (ویب نیوز) کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں پاکستان کا 79واں یومِ آزادی ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا، مختلف مقامات پر پرچم کشائی کی تقریبات، ریلیاں، سیمینارز، ثقافتی پروگرام اور ملی نغموں کی محافل منعقد ہوئیں۔ دن کا آغاز کوئٹہ کینٹ میں 21 توپوں کی سلامی سے ہوا اور فضا پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی، جبکہ مساجد میں نمازِ فجر کے بعد ملک کی سلامتی، ترقی، خوشحالی اور قومی یکجہتی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ صوبائی دارالحکومت میں مرکزی تقریب بلوچستان اسمبلی کے سبزہ زار میں پرچم کشائی کی صورت میں منعقد ہوئی جس میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، ڈپٹی اسپیکر غزالہ گولہ، صوبائی وزراء میر ظہور احمد بلیدی، میر ضیاء لانگو، بخت محمد کاکڑ، میر سلیم کھوسہ، حاجی محمد خان لہڑی، مینا مجید بلوچ، حاجی ولی محمد نورزئی، ارکان اسمبلی شیخ زرک مندوخیل، میر زابد علی ریکی، اصغر خان ترین اور دیگر نے شرکت کی، جبکہ سینیٹ، قومی و صوبائی اسمبلیوں، سندھ، گلگت بلتستان اور دیگر علاقوں سے معزز مہمان بھی شریک ہوئے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پوری قوم کو 79ویں یومِ آزادی کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح اور ہمارے اکابرین کی عظیم جدوجہد اور قربانیوں کے نتیجے میں پاکستان حاصل ہوا، اس لیے آزادی کی قدر کرنا اور ملک کی ترقی و استحکام کے لیے کردار ادا کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورے بلوچستان میں ضلع سے ڈویژن اور گاؤں سے تحصیل تک جس جوش و جذبے سے جشنِ آزادی منایا گیا وہ عوام کی پاکستان سے محبت اور وابستگی کا واضح ثبوت ہے۔ جو عناصر یہ سمجھتے ہیں کہ بلوچستان پاکستان سے جدا ہورہا ہے یا دہشتگرد قوتیں تشدد کے ذریعے پاکستان کو توڑنے میں کامیاب ہوجائیں گی، وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں، بلوچستان کے عوام نے اپنے عمل سے ان تمام منفی دعوؤں کی نفی کردی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ریاست اور حکومت کے دروازے ہمیشہ کھلے رہے ہیں اور آئندہ بھی کھلے رہیں گے، تشدد اور دہشتگردی کا راستہ ترک کرکے قومی دھارے میں واپس آیا جائے، بندوق کے زور پر کوئی نظریہ مسلط نہیں کیا جاسکتا۔ اگر تشدد کا راستہ ترک نہ کیا گیا تو ریاست کی رٹ ہر صورت قائم کی جائے گی اور حکومت بلوچستان و سکیورٹی فورسز کسی صورت ایک قدم پیچھے نہیں ہٹیں گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جائز سیاسی عمل اور مذاکرات کے لیے ہمیشہ تیار ہے تاہم معصوم شہریوں کا قتل عام کرنے والے عناصر سے مذاکرات نہیں ہوسکتے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو قومی دھارے میں شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور حکومت اس مقصد کے لیے متعدد اقدامات کررہی ہے، نوجوان نسل کو ریاست کے ساتھ مربوط کرنے کا بنیادی ذریعہ میرٹوکریسی ہے اور میرٹ کی بنیاد پر مواقع فراہم کرکے بلوچستان کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔ انہوں نے بلوچستان پولیس، پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور تمام سویلین شہداء کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے شہداء کے خاندانوں کو یقین دلایا کہ ان کا دکھ پوری قوم کا دکھ ہے اور ان کے پیاروں کی عظیم قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا دل ہے، بلوچستان کے بغیر پاکستان نامکمل اور پاکستان کے بغیر بلوچستان کی تکمیل ممکن نہیں۔ یومِ آزادی کی تقریب میں ملک بھر سے معزز مہمانوں کی شرکت اتحاد، یکجہتی اور قومی ہم آہنگی کا واضح پیغام ہے۔ تقریب کے شرکاء نے اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی کے جوان سال صاحبزادے کے انتقال پر اظہارِ تعزیت کیا اور مرحوم کی بلندیِ درجات اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔