کوئٹہ (یو این اے) — بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں چائے کی قیمت میں اچانک اور شہریوں کے مطابق من مانا اضافہ ہونے پر عوام نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ سے فوری نوٹس لینے اور گرانفروشی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ شہر اور گردونواح کے مختلف ہوٹلوں اور چائے خانوں میں ایک کپ چائے کی قیمت 80 سے بڑھا کر 100 روپے کر دی گئی ہے، جس کے باعث شہریوں کا کہنا ہے کہ متعدد علاقوں میں ہوٹل مالکان نے اچانک ایک کپ چائے کی قیمت میں 20 روپے اضافہ کر دیا ہے۔ شہریوں کے مطابق چائے روزمرہ زندگی کی عام ضرورت ہے اور اس کی قیمت میں اچانک 20 روپے کا اضافہ عام صارفین پر اضافی مالی بوجھ ڈال رہا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ چائے کی قیمت بڑھانے کے علاوہ بعض ہوٹلوں میں سرکاری نرخ نامہ بھی نمایاں جگہ پر آویزاں نہیں کیا جاتا، جس کے باعث گاہکوں کو بل کی ادائیگی کے وقت اضافی رقم ادا کرنا پڑتی ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ تمام ہوٹلوں، چائے خانوں اور متعلقہ کاروباری مراکز کے نرخوں کا جائزہ لے اور سرکاری نرخوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرے۔ احتجاج کرنے والے شہریوں نے کہا کہ ایک کپ چائے کی قیمت میں 20 روپے کا اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب عام عوام پہلے ہی مہنگائی کے مسائل سے دوچار ہیں، اس لیے یہ اضافہ ان پر مزید مالی بوجھ ڈال رہا ہے۔ ان کے مطابق جو افراد روزانہ ہوٹلوں میں چائے پیتے ہیں، ان کے لیے ہر کپ پر اضافی 20 روپے کا خرچ ماہانہ بجٹ پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔ صارفین نے کہا کہ اگر چائے کی قیمت میں اضافے کی کوئی حقیقی وجہ موجود ہے تو اس کا متعلقہ انتظامیہ اور پرائس کنٹرول اداروں کی جانب سے جائزہ لیا جائے اور ہوٹل مالکان کو من مانی قیمتیں مقرر کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ شہریوں نے کہا کہ کوئٹہ میں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی دیگر اشیاء کی قیمتیں پہلے ہی عوام کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہیں، اس لیے چائے کی ایک پیالی کی قیمت 80 سے 100 روپے کرنا عوامی مشکلات میں مزید اضافہ ہے۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ تمام ہوٹلوں اور چائے خانوں میں سرکاری نرخ ناموں کی نگرانی کی جائے، مقررہ قیمتوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، نرخ نامہ نمایاں جگہ پر آویزاں کرنے کی پابندی پر عمل کرایا جائے اور خلاف ورزی کرنے والے ہوٹل مالکان کے خلاف جرمانے سمیت دیگر قانونی کارروائی کی جائے۔ شہریوں نے کوئٹہ کے ڈپٹی کمشنر اور پرائس کنٹرول سے متعلق حکام سے فوری نوٹس لینے اور شہر میں چائے سمیت دیگر اشیائے خورونوش کی قیمتوں کی مؤثر نگرانی کا نظام قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق انتظامیہ کو صرف شکایات موصول ہونے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے بلکہ بازاروں اور ہوٹلوں میں اچانک معائنے کرنے چاہئیں تاکہ صارفین کو ناجائز قیمتوں اور گرانفروشی سے تحفظ مل سکے۔ عوام نے زور دیا کہ وہ مناسب قیمتوں پر معیاری اشیاء کی فراہمی اور کاروباری معاملات میں شفافیت چاہتے ہیں اور کسی تاجر یا ہوٹل مالک کو اپنی مرضی سے قیمتیں بڑھانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
