کوئٹہ(ویب نیوز) بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ٹریفک جام ایک مستقل اور سنگین مسئلہ بن چکا ہے، جس کے باعث شہری روزانہ گھنٹوں سڑکوں پر شدید اذیت کا سامنا کرتے ہیں۔ شہر کی مرکزی شاہراہوں، بازاروں اور چوراہوں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں، ہارنوں کا شور، دھواں اور گرمی شہریوں کے لیے باعثِ پریشانی ہیں، جبکہ متعلقہ اداروں کی جانب سے مسئلے کے مستقل حل کے لیے مؤثر اقدامات نظر نہیں آتے۔ جناح روڈ، کاسی روڈ، سریاب روڈ، میکانگی روڈ، بروری، اسپنی روڈ اور سمنگلی روڈ سمیت شہر کے متعدد اہم علاقوں میں روزانہ شدید ٹریفک جام رہتا ہے اور دفتری و تعلیمی اوقات میں صورتحال مزید خراب ہوجاتی ہے۔ ٹریفک جام کے باعث ایمبولینسیں سائرن بجانے کے باوجود بروقت راستہ حاصل نہیں کر پاتیں اور متعدد مریض و زخمی مقررہ وقت پر اسپتال نہیں پہنچ پاتے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ٹریفک کے مسئلے کے حل کے لیے کوئی مستقل حکمت عملی موجود نہیں، جبکہ ٹریفک پولیس بھی اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا نہیں کر رہی۔ ماہرین کے مطابق سڑکوں کی تنگی، ناقص شہری منصوبہ بندی، سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر تجاوزات، دکانوں اور ریڑھیوں کے غیرقانونی قبضے، ڈرائیوروں کی ناقص تربیت، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی، ٹریفک سگنلز کی کمی یا خرابی اور ٹریفک پولیس کی نفری میں کمی اس مسئلے کی بڑی وجوہات ہیں۔ شہریوں اور ماہرین نے بلوچستان حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ سڑکوں سے تجاوزات فوری ختم کی جائیں، ٹریفک پولیس کی نفری بڑھانے کے ساتھ ان کی تربیت بہتر بنائی جائے، اہم چوراہوں پر جدید ٹریفک سگنلز نصب کیے جائیں، مخصوص اوقات میں بھاری گاڑیوں کے داخلے پر پابندی عائد کی جائے اور ٹریفک کے مستقل حل کے لیے ماس ٹرانزٹ یا مؤثر عوامی ٹرانسپورٹ کا نظام متعارف کرایا جائے۔
