کوئٹہ(ویب نیوز) کوئٹہ اور بلوچستان کے مختلف اضلاع میں موبائل انٹرنیٹ ڈیٹا سروس ایک بار پھر بند کر دی گئی ہے، جس کے باعث شہریوں کی روزمرہ زندگی اور کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ موبائل انٹرنیٹ کی بندش سے عام شہری، تاجر، سرکاری و نجی ادارے، صحافی، طلبہ اور آن لائن کاروبار و روزگار سے وابستہ افراد کو متعدد مشکلات کا سامنا ہے۔ ڈیٹا سروس دستیاب نہ ہونے کے باعث ہزاروں افراد آن لائن ادائیگیوں، ڈیجیٹل رابطوں، آن لائن آرڈرز اور دیگر ضروری امور انجام دینے سے قاصر ہیں، جبکہ موبائل انٹرنیٹ پر انحصار کرنے والے آن لائن کاروبار بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور متعدد افراد کے روزگار کو مشکلات کا سامنا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ کاروباری لین دین، آن لائن آرڈرز، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور صارفین سے رابطے میں رکاوٹیں پیدا ہونے کے باعث کاروباری سرگرمیاں سست پڑ گئی ہیں۔ سرکاری و نجی اداروں میں بھی انٹرنیٹ پر منحصر امور متاثر ہوئے ہیں، جبکہ صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کو خبریں جمع کرنے اور بروقت معلومات منتقل کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور صوبائی حکومت کے مطابق بلوچستان میں سکیورٹی خدشات کے باعث محکمہ داخلہ کی درخواست پر موبائل انٹرنیٹ ڈیٹا سروس معطل کی گئی ہے۔ تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی خدشات اپنی جگہ، مگر انٹرنیٹ کی مکمل بندش کا سب سے زیادہ براہِ راست اثر عام لوگوں، تاجروں، طلبہ، صحافیوں اور آن لائن روزگار سے وابستہ افراد پر پڑتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے انٹرنیٹ کی مکمل بندش کے بجائے سکیورٹی کے لیے مؤثر متبادل اقدامات کیے جائیں۔ شہریوں نے مزید مطالبہ کیا کہ موبائل انٹرنیٹ کی بندش کی مدت واضح کی جائے اور سکیورٹی صورتحال بہتر ہوتے ہی سروس فوری طور پر بحال کی جائے، کیونکہ انٹرنیٹ کی مسلسل بندش نہ صرف کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کرتی ہے بلکہ ڈیجیٹل معیشت اور ہزاروں افراد کے روزگار پر بھی منفی اثر ڈالتی ہے۔
