مقامی ۱۶ اگست ۲۰۲۶

کوئٹہ میں عوام مہنگائی اور بے روزگاری کے دوہرے عذاب کا شکار

کوئٹہ (ویب نیوز) بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں عام شہریوں کی زندگی روز بروز مشکلات کا شکار ہے، آٹا، گھی، دالوں، سبزیوں اور دیگر بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے نے غریب عوام کو شدید معاشی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران آٹے کی قیمت میں 25 فیصد، سبزیوں کی قیمتوں میں 30 فیصد جبکہ دیگر اشیاء کی قیمتوں میں تقریباً 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ شہر کے مختلف بازاروں کے دکانداروں کا کہنا ہے کہ پٹرول اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کے باعث اشیائے خورونوش کی قیمتیں قابو سے باہر ہو گئی ہیں۔ دوسری جانب کوئٹہ کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی مسلسل کم ہو رہے ہیں اور تعلیم یافتہ نوجوان ملازمت کی تلاش میں در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ مہنگائی اور بجلی کے بھاری بلوں کے باعث متعدد چھوٹے کاروبار بھی بند ہو چکے ہیں۔ مزدور طبقے کا کہنا ہے کہ مزدوری کے مواقع کم ہو گئے ہیں جبکہ روزمرہ اخراجات کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔ علاقے کے ایک رہائشی عبدالرحمن نے کہا کہ گھر کے اخراجات پورے کرنا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے اور بچوں کی تعلیم، کرایہ اور خوراک کے اخراجات برداشت سے باہر ہو چکے ہیں۔ ایک مزدور خاتون زرینہ بی بی نے کہا کہ پہلے روزانہ کی مزدوری سے گزر بسر ہو جاتی تھی، مگر اب نہ مزدوری ملتی ہے اور نہ ہی اشیائے خورونوش کی قیمتیں قابلِ برداشت رہی ہیں۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق بلوچستان میں صنعتوں کی کمی اور سرمایہ کاری کا فقدان مہنگائی اور بے روزگاری کی اہم وجوہات میں شامل ہیں اور اگر صنعتوں اور چھوٹے کاروباروں کو فوری سہولیات فراہم نہ کی گئیں تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ضروری اشیاء کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے مؤثر پرائس مانیٹرنگ کمیٹیاں تشکیل دی جائیں اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے پروگرام شروع کیے جائیں تاکہ مہنگائی اور بے روزگاری کا بوجھ کم کیا جا سکے۔