کوئٹہ(وېب نیوز)صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں امن و امان کی صورتحال ایک بار پھر انتہائی تشویشناک ہوگئی ہے، جہاں شہر کے مختلف تھانوں کی حدود میں ڈکیتی، راہزنی، موٹر سائیکل چوری اور شہریوں سے نقدی و قیمتی اشیا چھیننے کی وارداتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ شہریوں کے مطابق جرائم پیشہ عناصر سرعام اسلحہ کے زور پر شہریوں کو لوٹ رہے ہیں، جبکہ بعض وارداتوں میں مبینہ طور پر سرکاری اداروں کا نام استعمال کرکے گھروں میں داخل ہونے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔تھانہ خالق شہید کی حدود لنک بادینی روڈ پر شام تقریبا چار بجے ایرانی تیل کا کاروبار کرنے والے شمس اللہ سے مبینہ ڈاکوں نے دن دہاڑے 3 لاکھ 35 ہزار روپے نقدی، موٹر سائیکل اور موبائل فون چھین لیا۔ اسی علاقے میں عمران خان اور اللہ داد کی موٹر سائیکلیں چھیننے جبکہ حیات اللہ اور عبداللہ کی موٹر سائیکلیں چوری ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔تھانہ سریاب کی حدود میں منور احمد اور محمد عاصم سے موٹر سائیکل اور 28 ہزار روپے نقدی چھین لی گئی، جبکہ بشیر احمد، رضوان اور جلیل احمد بھی موٹر سائیکل، موبائل فون اور نقدی سے محروم ہوگئے۔اسی تھانے کی حدود میں ریاض حسین ایڈووکیٹ کے گھر میں مبینہ طور پر ایک سرکاری ادارے کا نام استعمال کرتے ہوئے داخل ہوکر ڈکیتی کی گئی، جہاں سے 9 لاکھ روپے نقدی اور تین قیمتی گھڑیاں لے جانے کا دعوی کیا گیا ہے۔ اسی طرح طیب ہوتکانی کے گھر میں بھی ایک ادارے کا نام استعمال کرتے ہوئے مبینہ طور پر داخل ہوکر 2 لاکھ 80 ہزار روپے نقدی اور تقریبا 23 تولہ سونا لوٹنے کی اطلاع ہے۔تھانہ شالکوٹ کی حدود میں غلام عبید اللہ کو مبینہ طور پر گن پوائنٹ پر یرغمال بناکر 15 ہزار روپے اور موٹر سائیکل سے محروم کردیا گیا، جبکہ عبدالباری اور محمد رحیم سے بھی اسلحہ کے زور پر موبائل فون اور موٹر سائیکل چھیننے کی وارداتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔تھانہ کیچی بیگ کی حدود میں عبدالحئی اور علی اصغر سے موٹر سائیکل اور قیمتی اشیا چھیننے کے واقعات سامنے آئے۔ تھانہ نیو سریاب کی حدود میں عبدالباری، غلام علی، ربنواز اور جمیل الرحمان سے مبینہ طور پر اسلحہ کے زور پر موٹر سائیکلیں اور قیمتی سامان چھین لیا گیا، جبکہ نوروز خان کو دورانِ ڈکیتی زخمی کرکے قیمتی اشیا چھیننے کی اطلاع بھی ہے۔تھانہ سول لائن کی حدود مین امداد چوک پر ایک پولیس ملازم بھی مبینہ طور پر ڈاکوں کا نشانہ بن گیا، جس سے موبائل فون اور نقدی چھین لی گئی، جبکہ گہرام قمبرانی اور احسان اللہ کی موٹر سائیکلیں چوری ہونے کی اطلاعات ہیں۔تھانہ سٹی کی حدود میں صالح محمد، مقصود احمد اور عجب خان کی موٹر سائیکلیں چوری ہوگئیں، جبکہ تھانہ بجلی روڈ کی حدود میں امین اللہ سے موٹر سائیکل چھیننے کے دوران مبینہ فائرنگ کرکے اسے زخمی کردیا گیا۔ اسی علاقے میں ڈاکٹر ظہور احمد، عبداللہ، اشفاق اور محمد تنویر کی موٹر سائیکلیں بھی چوری ہونے کی اطلاعات ہیں۔کوئٹہ کے نسبتا پرامن تصور کیے جانے والے جناح ٹان میں بھی شہری جرائم پیشہ عناصر سے محفوظ نہ رہ سکے، جہاں شہباز خان سے قیمتی موبائل فونز چھیننے، امان اللہ کی موٹر سائیکل چوری ہونے اور محمد جمال کو گن پوائنٹ پر لوٹنے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔تھانہ زرغون آباد کی حدود میں محمد حنیف کو مبینہ طور پر گن پوائنٹ پر یرغمال بناکر موٹر سائیکل اور موبائل فون چھین لیا گیا، جبکہ تھانہ نوحصار کی حدود میں بھی ایک سرکاری ادارے کا نام استعمال کرتے ہوئے مبینہ طور پر گھر میں داخل ہوکر اسلحہ کے زور پر 15 لاکھ روپے لوٹنے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔تھانہ قائد آباد کی حدود مین توغی روڈ پر نبیل انور کو گن پوائنٹ پر لوٹ لیا گیا، جبکہ خادم حسین کی موٹر سائیکل چوری ہوگئی۔ تھانہ گوالمنڈی کی حدود کاسی روڈ پر غلام فاروق کاکڑ کو مبینہ طور پر گن پوائنٹ پر لوٹا گیا، جبکہ سرکی روڈ پر اصغر علی سے موٹر سائیکل اور موبائل فون چھیننے کی واردات رپورٹ ہوئی۔مسلسل بڑھتی وارداتوں نے کوئٹہ کے شہریوں میں شدید خوف و ہراس پیدا کردیا ہے۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ چور اور ڈاکو سرعام مین شاہراہوں، بازاروں اور گلیوں میں شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، جبکہ گھروں میں گھس کر لاکھوں روپے اور سونا لوٹنے کے واقعات نے شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔شہریوں نے پولیس اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر بھر میں مثر گشت کا نظام قائم کیا جائے، اہم شاہراہوں اور حساس مقامات پر پولیس کی موجودگی بڑھائی جائے اور ڈکیتی و چوری میں ملوث عناصر کے خلاف فوری اور بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ جرائم کے اس بڑھتے ہوئے سلسلے کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو کوئٹہ میں امن و امان کی صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔
