کوئٹہ (ویب نیوز) بلوچستان کے انسپکٹر جنرل پولیس محمد طاہر کی ہدایت پر کوئٹہ سمیت صوبے کے سات رینجز میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں مزید تیز کر دی گئی ہیں۔ بلوچستان پولیس کے مطابق اشتہاری مجرموں، مفرور ملزمان اور دیگر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف خصوصی مہم جاری ہے، جس کے دوران گزشتہ تین ہفتوں میں 43 اشتہاری مجرم، 296 مفرور افراد اور مختلف جرائم میں ملوث 466 ملزمان گرفتار کیے گئے، جبکہ 18 مغوی افراد کو بحفاظت بازیاب کرایا گیا۔ مختلف کارروائیوں کے دوران غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں 102 افراد کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے 80 ریوالور اور پستول، 8 کلاشنکوفیں، 6 شاٹ گنیں اور رائفلیں، 682 گولیاں و کارتوس اور 55 میگزین برآمد کیے گئے۔ منشیات فروشوں کے خلاف بھی بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی گئیں، جن میں 86 افراد گرفتار ہوئے اور ان کے قبضے سے 165 کلو 388 گرام چرس، 3 کلو 854 گرام آئس، گٹکے کی 8 بوریاں، 15 گرام ہیروئن، 106 بوتلیں شراب اور بیئر کے 60 کین برآمد کیے گئے۔ کارروائیوں کے دوران 4 مسروقہ گاڑیاں، 14 موٹر سائیکلیں اور 15 موبائل فون بھی برآمد ہوئے۔ ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کے سلسلے میں صوبے بھر میں 4,576 گاڑیوں سے غیر قانونی سیاہ شیشے اتارے گئے۔ بلوچستان پولیس کے ترجمان نے کہا ہے کہ صوبے میں پرامن ماحول کے قیام اور قانون کی بالادستی یقینی بنانے کے لیے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔ آئی جی پولیس محمد طاہر نے افسران کو ہدایت کی کہ عوام کے ساتھ پولیس کے تعاون، بہتر رویے اور باہمی احترام کو یقینی بنایا جائے، جبکہ تھانوں میں آنے والے شہریوں کے مسائل اور شکایات بروقت اور شفاف انداز میں حل کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس عوام کی جان و مال کے تحفظ اور جرائم کے خاتمے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی۔
