کوئٹہ(ویب نیوز)جمعیت علمائے اسلام کوئٹہ ضلع کے امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق، جنرل سیکرٹری حاجی عین اللہ شمس، سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد، سیکرٹری اطلاعات عبدالغنی شہزاد، سیکرٹری مالیات حاجی صالح محمد اور دیگر رہنماؤں نے کہا ہے کہ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں، غیر مؤثر طرز حکمرانی اور قومی امور پر سنجیدہ توجہ کے فقدان کے باعث ملک مسلسل سیاسی، معاشی اور سکیورٹی بحرانوں کا شکار ہے۔ خوف، بدامنی اور عدم اعتماد کی فضا نے عوام کی روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کیا ہے اور عوام اپنے بنیادی مسائل کے حل اور پائیدار امن کے لیے عملی اقدامات کے منتظر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے ذاتی اور سیاسی مفادات کو قومی ترجیحات پر فوقیت دی اور ملک کو دوسروں کی جنگوں کا ایندھن بنا دیا، جس کے باعث پاکستان بدامنی، معاشی مشکلات اور دیگر متعدد بحرانوں سے دوچار ہے۔ رہنماؤں نے زور دیا کہ قومی سلامتی، عوامی مفادات اور ملکی خودمختاری کے تقاضوں کے مطابق ایسی پالیسیوں کی ضرورت ہے جو ملک کو بحرانوں سے نکال کر استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام کوئٹہ ضلع کی جانب سے تنظیمی دوروں کا بنیادی مقصد تحصیلوں اور مقامی یونٹس کی تنظیمی سرگرمیوں کا جامع جائزہ لینا، مسائل اور کمزوریوں کی نشاندہی کرنا، کارکنوں سے براہ راست رابطے کو مضبوط بنانا اور تنظیمی ڈھانچے کو مزید فعال کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے ضلعی عاملہ کے ارکان پر مشتمل دس خصوصی کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں، جنہوں نے مختلف یونٹس اور تحصیلوں کے دورے کرکے تنظیمی سرگرمیوں، اجلاسوں، ریکارڈ، حاضری، ذمہ داران کی کارکردگی اور دیگر متعلقہ امور کا جائزہ لیا ہے۔ بیشتر یونٹس کے دورے مکمل ہوچکے ہیں اور متعلقہ یونٹس سے ضروری معلومات اور ریکارڈ بھی حاصل کرلیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان دوروں کے دوران تنظیمی کمزوریوں، مثبت پیش رفت اور ذمہ داران کی کارکردگی سے متعلق حاصل ہونے والی رپورٹ کا ضلعی عاملہ کے آئندہ اجلاس میں تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، جس کے بعد تنظیم کی بہتری، یونٹس کو فعال بنانے، ذمہ داران کے احتساب اور آئندہ کی حکمت عملی کے حوالے سے اہم فیصلے کیے جائیں گے۔
