مقامی ۱۲ اگست ۲۰۲۶

کان کنی کا شعبہ کان کنوں کے لیے موت کا کنواں بن گیا، سلطان محمد خان

کوئٹہ(ویب نیوز) پاکستان سنٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے مرکزی سیکرٹری جنرل سلطان محمد خان نے کہا ہے کہ بلوچستان میں کان کنی کا شعبہ کان کنوں کے لیے موت کا کنواں بن چکا ہے اور کانوں میں روزانہ پیش آنے والے حادثات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ کان کنوں کی صحت، حفاظت اور سلامتی سے متعلق قوانین پر مؤثر عملدرآمد نہیں ہورہا۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال ملک بھر میں مختلف حادثات کے دوران 103 کان کن جاں بحق ہوچکے ہیں، جن میں بڑی تعداد بلوچستان میں کان کنی کے دوران جان سے گئی۔ سلطان محمد خان نے کہا کہ اگر صوبائی حکومت، محکمہ معدنیات، محکمہ محنت، مائنز انسپکٹرز اور کان مالکان اپنی ذمہ داریاں درست طور پر ادا کریں اور حفاظتی اقدامات، گیس کی نگرانی، مناسب ہوا کی فراہمی، کارکنوں کی تربیت، باقاعدہ معائنوں اور ہنگامی امداد کی سہولیات یقینی بنائیں تو قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زہریلی گیسیں، ناقص وینٹیلیشن، گیس کا پتہ لگانے والے نظام کی عدم موجودگی، غیر محفوظ کانیں، حفاظتی آلات کی کمی اور ریسکیو سہولیات کا فقدان کان کنوں کی زندگیوں کو مسلسل خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ پاکستان سنٹرل مائنز لیبر فیڈریشن نے بلوچستان حکومت اور محکمہ معدنیات سے مطالبہ کیا کہ رواں سال کانوں میں پیش آنے والے تمام حادثات کی شفاف، غیرجانبدارانہ اور آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں، تحقیقات کی رپورٹس عوام کے سامنے لائی جائیں اور غفلت یا حفاظتی قوانین کی خلاف ورزی کے ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مائنز انسپکشن اور قانون پر عملدرآمد کا نظام فوری طور پر مضبوط کیا جائے اور ان کانوں کو کام کی اجازت نہ دی جائے جہاں وینٹیلیشن، گیس کا پتہ لگانے، ہنگامی صورتحال اور ریسکیو کی مناسب سہولیات موجود نہ ہوں۔ حفاظتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کان مالکان اور ٹھیکیداروں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے۔ سلطان محمد خان نے مزید مطالبہ کیا کہ جاں بحق کان کنوں کے خاندانوں کو فوری اور مناسب معاوضہ دیا جائے اور بیواؤں، بچوں اور دیگر زیرکفالت افراد کے لیے مستقل سماجی و مالی معاونت یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام کان کنوں کو حفاظتی تربیت، حفاظتی آلات اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تربیت فراہم کی جائے، جبکہ کارکنوں کو یہ حق بھی دیا جائے کہ وہ غیر محفوظ حالات کی نشاندہی کرسکیں اور اپنی جان خطرے میں ڈالے بغیر خطرناک کام سے انکار کرسکیں۔ انہوں نے حکومت، محکمہ معدنیات، کان مالکان اور مزدور نمائندوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کان کن پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ان کی زندگی، صحت، عزت اور حفاظت کا تحفظ ریاست اور کان مالکان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔