کوئٹہ (ویب نیوز) بلوچستان مرکزی انجمن تاجران کے صدر رحیم کاکڑ اور دیگر تجارتی رہنماؤں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ ژوب سے قمرالدین کاریز تک سڑک کی تعمیر کا کام ہنگامی بنیادوں پر تیز کرکے جلد مکمل کیا جائے اور قمرالدین کاریز کو ایک مؤثر، محفوظ اور فعال تجارتی گیٹ وے کے طور پر ترقی دی جائے۔ تجارتی رہنماؤں نے مشترکہ بیان میں کہا کہ قمرالدین کاریز پاکستان، افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان تجارت کے حوالے سے اہم جغرافیائی اور تجارتی حیثیت رکھتا ہے اور اس راستے کو فعال کرنے سے پاکستان کو وسطی ایشیائی منڈیوں تک رسائی کے لیے ایک اہم متبادل تجارتی راستہ میسر آ سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس سے بلوچستان، بالخصوص ژوب میں تجارت، سرمایہ کاری، روزگار اور معاشی سرگرمیوں کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ قمرالدین کاریز کو تجارتی گیٹ وے بنانے کا اعلان 2005 میں ژوب میں اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کیا تھا، تاہم دو دہائیاں گزرنے کے باوجود یہ اہم منصوبہ اپنی اصل تجارتی صلاحیت کے مطابق مکمل طور پر فعال نہیں ہو سکا۔ تاجروں نے کہا کہ ژوب، قمرالدین کاریز سڑک کی تکمیل پورے تجارتی منصوبے کی بنیادی ضرورت ہے اور سڑک کی خراب حالت اور ترقیاتی کاموں کی سست رفتار کے باعث ملک اور بلوچستان اس اہم راستے کے فوائد سے محروم ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کو افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت کے فروغ کے لیے نئی، محفوظ اور مختصر تجارتی راہداریوں کی ضرورت ہے اور قمرالدین کاریز کو چمن اور غلام خان کے متبادل اہم تجارتی راستے کے طور پر ترقی دی جا سکتی ہے، جس سے تجارتی نقل و حمل کے اخراجات اور وقت میں کمی آئے گی۔ مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر رحیم کاکڑ نے مطالبہ کیا کہ سڑک کے جاری ترقیاتی کاموں کے لیے ضروری فنڈز فوری جاری کیے جائیں، تعمیراتی رفتار تیز کی جائے اور منصوبے کی تکمیل کے لیے واضح ٹائم لائن اور حتمی تاریخ مقرر کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس منصوبے کو صرف ایک سڑک کا منصوبہ نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ قومی تجارت اور علاقائی رابطے کے اہم منصوبے کے طور پر ترجیح دینی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صرف سڑک کی تعمیر کافی نہیں بلکہ قمرالدین کاریز میں کسٹمز، امیگریشن، ٹرک ٹرمینل، گوداموں، بینکاری، مارکیٹ اور دیگر ضروری سہولیات پر مشتمل جدید تجارتی انفراسٹرکچر بھی قائم کیا جائے۔ رحیم کاکڑ نے کہا کہ قمرالدین کاریز صرف ژوب یا بلوچستان کا منصوبہ نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل کے علاقائی تجارتی روابط کے لیے ایک اہم دروازہ بن سکتا ہے، حکومت کو اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرنے، منصوبے کی پیش رفت کا جائزہ لینے، ضروری فنڈز فراہم کرنے اور متعلقہ اداروں کو مقررہ مدت کے اندر کام مکمل کرنے کا پابند بنانا چاہیے۔ تجارتی رہنماؤں نے وزیراعظم، وفاقی وزیر مواصلات، وزیراعلیٰ بلوچستان اور متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں سے مطالبہ کیا کہ قمرالدین کاریز کو قومی تجارتی منصوبہ قرار دے کر ژوب، قمرالدین کاریز سڑک کی تعمیر جلد مکمل کی جائے اور منصوبے کی تکمیل کی واضح تاریخ عوام اور تجارتی برادری کے ساتھ شیئر کی جائے۔
