کوئٹہ (ویب نیوز) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے ملک میں ڈویژنل بنیادوں پر نئے صوبوں کی تشکیل کی تجویز کو ملک دشمن اور استعماری منصوبہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ سے 22 اگست 2026 کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 1940ء کی قراردادِ لاہور درحقیقت خودمختار اور مقتدر قومی ریاستوں پر مشتمل ایک یونین کے قیام کی قرارداد تھی، جبکہ 1940ء کے کیبنٹ مشن پلان میں ہر قومی وحدت کو دس سال بعد یونین سے علیحدہ ہونے کا حق دیا گیا تھا۔ بیان کے مطابق ماؤنٹ بیٹن کے تقسیمِ ہند منصوبے میں قومی وحدتوں کی منتخب اسمبلیوں کو پاکستان یا ہندوستان میں شمولیت کا اختیار دیا گیا اور پشتون، بلوچ، سندھی، سرائیکی، پنجابی اور بنگالی قومی وحدتوں کی منتخب اسمبلیوں نے پاکستان کے قیام کا فیصلہ کیا، یوں پاکستان قومی وحدتوں کے فیصلے سے وجود میں آیا۔بیان میں کہا گیا کہ قیامِ پاکستان کے بعد استعماری اور رجعتی قوتوں نے قومی وحدتوں کی برابری پر مبنی جمہوری وفاق کے قیام کی راہ روکی اور طویل فوجی آمریتوں کے ذریعے عوام کی جمہوری حکمرانی کو محدود رکھا۔ پارٹی کے مطابق 23 سال بعد عوام کو ووٹ کا حق ملا، تاہم انتخابی نتائج تسلیم نہ کیے جانے کے نتیجے میں ملک دولخت ہوا، جبکہ 1973ء کے آئین کو بھی چار سال بعد ختم کر دیا گیا۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ قومی وحدتوں کی جمہوری قوتوں کی طویل جدوجہد کے نتیجے میں 2010ء میں اٹھارہویں ترمیم منظور ہوئی، جسے عوام اور قوموں کے خوشحال مستقبل کی ضمانت قرار دیا گیا، تاہم پارٹی کے مطابق 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے ذریعے اس ترمیم کی روح کو ختم کر دیا گیا اور ملک میں غیر اعلانیہ مارشل لا نافذ ہے۔پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے کہا کہ پشتونخوا وطن کی تاریخی تقسیم برقرار رکھتے ہوئے جنوبی پشتونخوا، شمالی پشتونخوا اور اٹک و میانوالی سمیت بولان تا چترال متحد قومی صوبے کے حق سے پشتون قومی وحدت کو محروم رکھا گیا ہے، جبکہ سرائیکی قومی وحدت کی خودمختار حیثیت بھی تسلیم نہیں کی گئی۔ بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ حقیقی جمہوری وفاق کے قیام کے لیے زبان، ثقافت اور تاریخی حقائق کی بنیاد پر پشتون، بلوچ، سندھی، سرائیکی اور پنجابی قومی وحدتوں پر مشتمل وفاق تشکیل دیا جائے، قومی اسمبلی سمیت تمام وفاقی اداروں میں قوموں کی برابری تسلیم کی جائے اور دفاع، خارجہ امور، کرنسی اور مواصلات کے علاوہ تمام اختیارات قومی وحدتوں کو منتقل کیے جائیں۔ پارٹی نے واضح کیا کہ پشتون اور دیگر قومی وحدتیں اپنے تاریخی قومی وجود، قومی تشخص اور خودمختار حیثیت سے دستبردار نہیں ہوں گی اور نئے صوبوں کے نام پر قومی وحدتوں کی تقسیم کے منصوبے کو قبول نہیں کریں گی۔ بیان میں تمام محکوم اقوام کی جمہوری اور وطن پال قوتوں سے اپیل کی گئی کہ وہ متحد و منظم ہو کر نئے صوبوں کے منصوبے کو عوامی مزاحمت کے ذریعے ناکام بنائیں۔
