کوئٹہ(ویب نیوز)بلوچستان کے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت سوئی ماسٹر پلان کے پہلے مرحلے پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں چیف سیکریٹری شکیل قادر خان، سیکریٹری خزانہ جہانگیر خان، پروجیکٹ ڈائریکٹر رفیق بلوچ، چیف آف کلپر وڈیرہ جلال خان کلپر اور متعلقہ حکام نے شرکت کی، جبکہ ویڈیو لنک کے ذریعے قومی اسمبلی کے رکن میاں خان بگٹی، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ کے بورڈ حکام، سبی ڈویژن کے کمشنر، ڈیرہ بگٹی کے ڈپٹی کمشنر زوہیب الحسن اور سوئی میونسپل کمیٹی کے چیئرمین عزت امان بگٹی بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔ اجلاس میں سوئی ماسٹر پلان کے پہلے مرحلے پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور منصوبے کے مختلف حصوں کے حوالے سے شرکاء کو بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں روشن گلیوں اور سڑکوں، نکاسی آب کے نظام، میر غلام قادر بگٹی اسٹیڈیم، خواتین پارک، بس ٹرمینل، ٹرک اسٹینڈ اور دیگر بنیادی شہری سہولیات کے منصوبے مکمل کیے جائیں گے۔ ان منصوبوں کی لاگت بلوچستان حکومت اور پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ کی جانب سے 50،50 فیصد مشترکہ شراکت کے تحت فراہم کی جائے گی اور منصوبوں پر مختصر مدت میں عملدرآمد کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ماسٹر پلان کے تمام منصوبوں کے تعمیراتی معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے اور اگر غیر معیاری کام سامنے آیا تو متعلقہ کمپنی اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ سوئی کو ایک جدید اور مثالی شہری شہر میں تبدیل کیا جائے گا اور گزشتہ نصف صدی کی ترقی اور موجودہ حکومت کے دو سالہ دور کی کارکردگی میں واضح فرق نظر آنا چاہیے۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ سوئی کے عوام کو بنیادی شہری سہولیات کی فراہمی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے اور متعلقہ حکام کو ماسٹر پلان کے منصوبوں کو محض ترقیاتی اسکیموں کے طور پر نہیں بلکہ عوامی خدمت کے اہم مقصد کے طور پر مکمل کرنا چاہیے۔
