کوئٹہ (ویب نیوز) نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کوئٹہ کیمپس میں قومی ترانے کے دوران کھڑے نہ ہونے اور ترانہ نہ پڑھنے پر 35 سے زائد طلبہ و طالبات کو یونیورسٹی سے خارج کیے جانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے، تاہم یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ مؤقف جاری نہیں کیا گیا۔ کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے وکیل اور انسانی حقوق کارکن عمران بلوچ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ قومی ترانے کی تقریب کے دوران 35 سے زائد طلبہ کھڑے نہیں ہوئے، جس کے بعد ان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں یونیورسٹی سے خارج کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ طلبہ میں بلوچ اور غیر بلوچ دونوں شامل ہیں۔ عمران بلوچ کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبہ کی دوبارہ بحالی کے لیے والدین سے خصوصی حلف نامے طلب کیے ہیں اور حلف نامے جمع کرانے کے بعد ہی دوبارہ داخلے پر غور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ والدین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقررہ حلف نامے جمع کرائیں تاکہ طلبہ کی یونیورسٹی واپسی ممکن ہو سکے۔ دوسری جانب نسٹ انتظامیہ کی جانب سے خبر فائل ہونے تک اس معاملے پر کوئی باضابطہ وضاحت یا ردعمل سامنے نہیں آیا۔
