کوئٹہ(ویب ڈیسک) بلوچستان کی صوبائی حکومت جو میرٹ اور غربت کے خاتمے کے دعوے کرتی ہے، عوام بالخصوص بے روزگار نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بعض سرکاری اداروں میں من پسند افراد کی تقرری کے احکامات جاری کیے گئے ہیں جبکہ بعض ایسے ادارے بھی موجود ہیں جہاں گزشتہ تین سال کے دوران ایک بھی تقرری کا حکم جاری نہیں کیا گیا۔ نوجوان ملازمت کے حصول کے لیے انٹرویوز دینے ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہیں لیکن تاحال انہیں تقرری کی کوئی عملی پیش رفت نظر نہیں آئی، جس پر سوال اٹھایا جارہا ہے کہ آیا افسر شاہی کی رکاوٹیں موجود ہیں یا اداروں کے سربراہان اپنے مفادات کے معاملات طے نہ ہونے کے باعث بھرتیوں میں تاخیر کررہے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث بلوچستان میں بے روزگاری کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھ رہی ہے۔ بلوچستان پہلے ہی صنعت اور روزگار کے وسیع مواقع کی کمی کا شکار ہے، جس کے باعث بڑی تعداد میں لوگ پاک افغان اور پاک ایران سرحدوں سے منسلک تجارت اور روزمرہ کے کاروباری سرگرمیوں کے ذریعے روزگار تلاش کرتے ہیں اور صبح گھروں سے نکل کر شام کو واپس لوٹتے ہیں۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے سرحدیں بند کرنے کے اعلانات کیے گئے ہیں، تاہم یہ دعوے بھی سامنے آتے رہے ہیں کہ ایران کی سرحد سے بااثر افراد اب بھی آسانی سے تیل کی ترسیل کرتے ہیں اور اس ذریعے سے لاکھوں، کروڑوں بلکہ مبینہ طور پر اربوں روپے کماتے ہیں، جبکہ غریب عوام کی روزانہ کی آمدن اور دو وقت کی روٹی کا سلسلہ بھی متاثر ہوا ہے۔ دوسری جانب افغان سرحد کے ذریعے بھی مختلف طریقوں سے تجارت اور ترسیل کا سلسلہ جاری رہنے کی اطلاعات ہیں۔ بے روزگار نوجوانوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت میرٹ اور غربت کے خاتمے کی دعویدار ہے تو اسے عام شہریوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہوں گے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، سرکاری اداروں میں خالی آسامیوں کا اعلان کیا جائے اور میرٹ کی بنیاد پر اہل اور مستحق افراد کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔
