اداریہ ۲ اکتوبر ۲۰۲۶

مذاکرات کا دروازہ اور جمہور کی اصل حکمرانی

ایک دوسرے کو طعنے دینے اور تحقیر آمیز القابات سے پکارنے والے سیاسی رہنما بالآخر مذاکرات کی میز پر بیٹھنے جا رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ مذاکرات انتخابات کے فوراً بعد شروع ہونے چاہییں تھے۔ اگر اس وقت سیاسی قوتیں ایک دوسرے سے بات چیت کا راستہ اختیار کرتیں تو شاید اب تک نئے انتخابات بھی ہو چکے ہوتے اور ملک مسلسل سیاسی کشمکش، احتجاج اور غیر یقینی کی کیفیت سے باہر نکلنے کی طرف بڑھ رہا ہوتا۔ موجودہ حالات میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے سیاسی معاملات سے لاتعلقی کا اظہار اور دوسری طرف گورنر راج یا ایمرجنسی جیسے امکانات کا ذکر، بظاہر سیاسی قوتوں کو مذاکرات کی طرف آنے پر مجبور کرنے والے عوامل میں شامل دکھائی دیتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اسلام آباد کو کبھی ’’سومنات‘‘ قرار دینے والے بھی اب اسی اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے بیٹھنے پر آمادہ ہیں۔

ملک کی داخلی سیاسی صورتحال کے ساتھ بھارت اور افغانستان کی سرحدوں پر ممکنہ بدلتی ہوئی صورتحال نے بھی شاید تمام فریقوں کو کم از کم کسی حد تک ایک صفحے پر آنے کی ضرورت کا احساس دلایا ہے۔ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی باتیں اپنی جگہ، مگر بلوچستان کی صورتحال ایک اہم سوال ضرور اٹھاتی ہے کہ جب کسی صوبے میں ریاستی رٹ کمزور ہونے کا تاثر پیدا ہو تو اس کے اثرات محض ایک صوبے تک محدود نہیں رہتے۔ بلوچستان میں ریاستی اختیار کو چیلنج کیے جانے کے واقعات اور امن و امان کی صورتحال اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ ملک کی سیاسی قیادت محض ایک دوسرے کو دھمکانے، سازشوں کے الزامات لگانے اور طاقت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی بجائے عوامی حکمرانی کے اصول کو بنیاد بنائے۔ ریاستی اداروں اور سیاسی قوتوں کے درمیان آئینی حدود کا احترام ہی وہ راستہ ہے جو ملک کو مستقل سیاسی استحکام کی طرف لے جا سکتا ہے۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ سازشوں، دھمکیوں اور اشاروں پر چلنے والی سیاست کے بجائے جمہور کو طاقت کا حقیقی سرچشمہ تسلیم کیا جائے۔ 2018 اور 2023 کے انتخابات کے حوالے سے جن سیاسی و غیر سیاسی کرداروں پر مداخلت، اثراندازی یا انتخابی عمل کو متنازع بنانے کے الزامات لگتے رہے ہیں، ان معاملات کے حقائق قوم کے سامنے آنے چاہییں اور جہاں غلطی ہوئی ہو وہاں اس کا اعتراف بھی ہونا چاہیے۔ اس کے بعد روز روز کے سیاسی بحران، احتجاج، محاذ آرائی اور حکومتوں کی تبدیلی کے خدشات کا سلسلہ ختم ہو سکتا ہے۔ مذاکرات کسی ایک فریق کی فتح یا دوسرے کی شکست نہیں بلکہ آئینی و جمہوری راستہ تلاش کرنے کا ذریعہ ہونے چاہییں۔ جب تک عوام کے حقیقی نمائندوں کو ان کے مینڈیٹ کے مطابق پارلیمان میں آنے اور اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کرنے کا موقع نہیں دیا جائے گا، تب تک ملک سیاسی کشمکش کے اس دائرے سے نکل کر حقیقی جمہوری استحکام اور ترقی کی جانب اپنے سفر کا آغاز نہیں کر سکے گا۔