ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کے قیام اور ان کی سیاسی سرپرستی میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر طویل عرصے سے بحث ہوتی رہی ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ بعض جماعتوں کو مخصوص سیاسی حالات میں تقویت ملی، ان سے سیاسی مقاصد حاصل کیے گئے اور جب ان کی افادیت کم ہوئی تو انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پیپلز پارٹی ہو، مسلم لیگ یا تحریک انصاف، سیاسی حالات بدلنے پر ان جماعتوں کو بھی وفاق کی چھوٹی اکائیوں میں موجود مضبوط قیادت اور عوامی حمایت کی ضرورت محسوس ہوئی۔ لیکن جب یہی قیادت انہیں مشکل حالات سے نکال کر سیاسی مقام تک پہنچاتی ہے تو اکثر اسے نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ یوں ’’پہاڑ اوجھل، آنکھ اوجھل‘‘ کی ضرب المثل ہماری سیاست میں بار بار دہرائی جاتی ہے۔
ماضی میں جس جماعت کو سیاسی سرپرستی حاصل رہی، آج اسی کے لیے سیاسی مشکلات پیدا ہوئی ہیں تو اس کی قیادت کو سیاسی مکالمے اور جمہوری اصولوں کے بجائے مقتدر قوتوں کے ساتھ معاملات طے کرنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ ایسے حالات میں محمود خان اچکزئی جیسے تجربہ کار قوم پرست رہنما کی اہمیت بڑھ جاتی ہے، جن کی سیاسی جدوجہد، عوامی رابطے اور جمہوری مؤقف کسی ایک جماعت یا شخصیت تک محدود نہیں۔ تاہم، کسی بھی رہنما کی اصل ذمہ داری کسی فرد یا جماعت کی سیاسی بقا سے بڑھ کر آئین، پارلیمان، جمہوریت اور وفاقی اکائیوں کے حقوق کا تحفظ ہونا چاہیے۔ سیاسی تعاون اسی وقت پائیدار ہوتا ہے جب وہ اصولوں پر قائم ہو، نہ کہ وقتی ضرورت اور سیاسی مفاد پر۔
قوم پرست جماعتوں کے لیے بھی یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ وہ اپنی سیاست کو محض انتخابی اتحادوں اور دوسری جماعتوں کی مشکلات میں ان کی مدد تک محدود نہ رکھیں۔ بلوچستان، خیبر پختونخوا، سندھ اور دیگر وفاقی اکائیوں کے عوام کے وسائل، زبانوں، ثقافت، سیاسی اختیار، روزگار اور آئینی حقوق کا تحفظ ان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ پاکستان کی مضبوطی کا راستہ اکائیوں کو کمزور کرنے یا ان کی قیادت کو تقسیم کرنے میں نہیں، بلکہ انہیں آئینی اختیار، وسائل میں منصفانہ حصہ اور فیصلہ سازی میں مؤثر نمائندگی دینے میں ہے۔ اگر قوم پرست جماعتیں اپنے اختلافات کے باوجود مشترکہ قومی حقوق پر متحد ہو جائیں تو ان کی سیاسی قوت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
سیاسی تاریخ میں یہ الزام بھی سامنے آتا رہا ہے کہ قوم پرست جماعتوں کو تقسیم کرکے ایسی قیادت اور جماعتوں کو آگے لایا جاتا ہے جو طاقت ور حلقوں کے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔ اس لیے قوم پرست قیادت کو شخصیات کی سیاست سے نکل کر ادارہ جاتی استحکام، داخلی جمہوریت، عوامی جواب دہی اور مشترکہ قومی ایجنڈے کو ترجیح دینی چاہیے۔ قومیتوں کے حقوق کا تحفظ پاکستان کی وحدت کے خلاف نہیں، بلکہ اس کے وفاقی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی بنیاد ہے۔ قوم پرست جماعتوں کی بقا، عوام کی خوشحالی اور پاکستان کا استحکام اسی میں ہے کہ سیاست اقتدار کے مراکز کی خوشنودی کے بجائے عوامی مینڈیٹ، آئین کی بالادستی اور تمام وفاقی اکائیوں کے مساوی احترام کے اصولوں پر استوار ہو۔
