کوئٹہ(ویب نیوز)راڑہ شم کے قبائلی و سیاسی رہنماؤں سردار سید اسد زمان شاہ، سید قربان علی غرچین اور سید عباداللہ شاہ غرچین نے بلوچستان کے وزیراعلیٰ اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ راڑہ شم کو موسیٰ خیل کا حصہ برقرار رکھا جائے تاکہ علاقے میں مزید ترقی ہو اور عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کی جاسکیں۔ انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اگر راڑہ شم کو بارکھان کے ساتھ شامل کیا گیا تو علاقے کے لوگوں کو روزمرہ امور کے لیے سیکڑوں کلومیٹر سفر اور اضافی مالی اخراجات برداشت کرنا پڑیں گے۔ سید عباداللہ شاہ غرچین نے بتایا کہ وہ راڑہ شم سے 412 کلومیٹر کا سفر کرکے اپنے مسائل حکام تک پہنچانے آئے ہیں۔ ان کے مطابق علاقے کی آبادی 7,797 افراد پر مشتمل ہے، جن میں 4,940 سادات غرچین اور سادات بخاری جبکہ 2,857 بزدار، لشکرانی اور لاشاری بلوچ شامل ہیں، جبکہ علاقے میں شرح خواندگی تقریباً 80 فیصد ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ راڑہ شم این-70 قومی شاہراہ پر لورالائی اور ڈیرہ غازی خان کے درمیان واقع ہے اور علاقے میں تعلیمی ادارے، ڈسپنسری، بنیادی مرکز صحت، بی ایچ یو کی اپ گریڈیشن کا منصوبہ، دانش اسکول کی تعمیر، کھیل کا میدان اور صاف پانی کی فراہمی کا منصوبہ موجود ہے۔ ان کے مطابق کنگری تحصیل راڑہ شم سے صرف 13 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ رہنماؤں نے بتایا کہ فروری 2026 میں راڑہ شم کی انتظامی حیثیت تبدیل کرنے کی اطلاع کے بعد قبائلی جرگہ منعقد کیا گیا تھا اور وزیراعلیٰ سے بھی ملاقات کی گئی، تاہم 8 جولائی کو ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے راڑہ شم کو بارکھان کے ساتھ شامل کرکے دو اضلاع کے درمیان تقسیم کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے باعث راڑہ شم سے موسیٰ خیل 85 کلومیٹر جبکہ بارکھان 110 کلومیٹر دور ہوگا اور لوکل سرٹیفکیٹ سمیت دیگر قانونی دستاویزات کے حصول کے لیے عوام کو اضافی اخراجات اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ قبائلی رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ راڑہ شم کی سابقہ انتظامی حیثیت بحال کرکے علاقے کو اس مشکل صورتحال سے نکالا جائے۔
