انٹرٹینمنٹ ۲۳ اکتوبر ۲۰۲۶

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورۂ تہران اور خطے کی بدلتی صورتِ حال۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورۂ تہران محض پاکستان اور ایران کے درمیان معمول کے سفارتی رابطوں کا تسلسل نہیں بلکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، بدلتے ہوئے سیاسی مفادات اور ممکنہ تصادم کے خطرات کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان ایک طرف ایران کے ساتھ اپنے ہمسایہ تعلقات اور سرحدی استحکام کو برقرار رکھنا چاہتا ہے، تو دوسری طرف سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات، حرمین شریفین کے تحفظ اور وسیع تر علاقائی امن کے تقاضوں کو بھی نظرانداز نہیں کرسکتا۔ اس صورتِ حال میں پاکستان کے لیے بنیادی چیلنج یہ ہے کہ وہ کسی دوسرے ملک کے خلاف جنگ کا حصہ بنے بغیر کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کی راہ ہموار کرنے اور ممکنہ تصادم کو روکنے میں مؤثر کردار ادا کرے۔ تاہم اس دورے کے دوران ہونے والی گفتگو اور اس کے نتائج کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنے کے لیے مستند سرکاری معلومات ضروری ہیں۔

ایران کی داخلی سیاست بھی اس سفارتی منظرنامے کا اہم پہلو ہے۔ وہاں منتخب حکومت، وزارتِ خارجہ اور پاسدارانِ انقلاب کے ادارہ جاتی کردار اور ترجیحات میں فرق ہوسکتا ہے، لیکن محض مختلف بیانات یا رویّوں کی بنیاد پر کسی کھلی کشمکش کا نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں۔ اگر پاکستان کی قیادت کو مختلف ایرانی حلقوں سے الگ الگ پیغامات ملے ہوں تو یہ سفارت کاری کی پیچیدگی کو ظاہر کرسکتا ہے، تاہم اس کی تصدیق کے بغیر اسے داخلی تصادم کا ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے۔ اسی طرح سعودی عرب، ایران اور حوثیوں سے متعلق معاملات کو بھی وسیع علاقائی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کا مفاد اس میں ہے کہ وہ کسی فرقہ وارانہ یا گروہی صف بندی کے بجائے ریاستی مفادات، مسلم دنیا کے باہمی احترام اور علاقائی استحکام کو ترجیح دے۔ پاکستان کی جانب سے حرمین شریفین کے تحفظ سے متعلق کسی بھی عزم کو بھی اسی اصول کے تحت سمجھنا چاہیے کہ دفاعی تعاون اور امن کی کوششیں خطے کو مزید جنگ میں دھکیلنے کے بجائے تصادم روکنے کا ذریعہ بنیں۔

موجودہ حالات میں سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ سفارتی رابطوں کے باوجود غلط فہمی، اشتعال انگیزی یا کسی محدود کارروائی کے نتیجے میں وسیع جنگ چھڑ جائے۔ اس امکان کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، لیکن کسی بڑے حملے کی تیاری یا طے شدہ منصوبے کے بارے میں مصدقہ شواہد کے بغیر قیاس آرائی بھی مناسب نہیں۔ خطے کے تمام ممالک کو اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے، اشتعال انگیز اقدامات سے گریز کرنے اور تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اس سلسلے میں ایران، سعودی عرب اور دیگر متعلقہ ممالک کے درمیان رابطے کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے، بشرطیکہ اس کی سفارت کاری متوازن، شفاف اور قومی مفاد سے ہم آہنگ ہو۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورۂ تہران کی اصل کامیابی کا پیمانہ بیانات یا ملاقاتوں کی تعداد نہیں بلکہ یہ ہوگا کہ آیا اس سے کشیدگی کم کرنے، اعتماد بحال کرنے اور ممکنہ جنگ کے خطرات محدود کرنے میں کوئی عملی پیش رفت ہوئی۔ خطے کو اس وقت نئی صف بندیوں اور طاقت کے مظاہروں سے زیادہ ذمہ دار قیادت، سنجیدہ مذاکرات اور ایسے فیصلوں کی ضرورت ہے جو عوام کو جنگ کے تباہ کن نتائج سے محفوظ رکھ سکیں۔