مقامی ۲۴ اگست ۲۰۲۶

صحبت پور میں صحافیوں کا احتجاج، ڈی ایچ او کو ہٹانے اور ادویات کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ

حیردین (ویب نیوز) صحبت پور کے صحافی اتحاد کی جانب سے ضلعی پریس کلب کے سامنے پُرامن احتجاج اور ریلی نکالی گئی، جس میں صحافیوں، سماجی کارکنوں اور دیگر افراد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے صحافیوں اور سماجی کارکن کے خلاف مبینہ جھوٹی ایف آئی آر، صحبت پور کے ڈی ایچ او کی جانب سے ہیپاٹائٹس کی ادویات کی مبینہ فروخت کے معاملے کی شفاف تحقیقات اور ڈی ایچ او کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر شہید صحافی حاجی نظر علی کنرانی کے قاتلوں کی گرفتاری، ڈی ایچ او کو ہٹانے، محکمہ صحت کے تحفظ، ہیپاٹائٹس کی ادویات کی مبینہ فروخت کی شفاف تحقیقات اور جھوٹی ایف آئی آر کے ذریعے صحافیوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ روکنے کے مطالبات درج تھے۔ صحافی اتحاد کے رہنماؤں نے کہا کہ صحافی عوامی مسائل اجاگر کرنے کی ذمہ داری ادا کرتے ہیں، اس لیے جھوٹے مقدمات کے ذریعے انہیں ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ انہوں نے ہیپاٹائٹس کی ادویات کی مبینہ فروخت کے معاملے کی غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، سیکرٹری صحت بلوچستان، آئی جی بلوچستان، ڈی آئی جی نصیرآباد، کمشنر نصیرآباد ڈویژن، ڈپٹی کمشنر صحبت پور اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر شفاف تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور شہید صحافی حاجی نظر علی کنرانی کے قاتلوں کو گرفتار کرکے انصاف فراہم کیا جائے۔