مقامی ۲۲ اگست ۲۰۲۶

شہید کان کنوں کے خاندانوں کے لیے امداد کی رقم بڑھائی جائے: سلطان خان

کوئٹہ (ویب نیوز)پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن اور آل پاکستان لیبر فیڈریشن نے بلوچستان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کان کنی کے شعبے میں ٹھیکیداری نظام ختم، کان کنوں کی صحت و سلامتی سے متعلق قوانین پر سختی سے عمل درآمد، جدید حفاظتی آلات کی فراہمی اور محفوظ کان کنی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ مزدور رہنماؤں نے کان کنی کے حادثات میں جاں بحق ہونے والے کان کنوں کے خاندانوں کے لیے بلوچستان حکومت کی جانب سے فی کس 5 لاکھ روپے امداد کو ناکافی قرار دیتے ہوئے معاوضے میں خاطر خواہ اضافہ، متاثرہ خاندانوں کو ضروری سہولیات کی فراہمی، حفاظتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی، کانوں کے باقاعدہ معائنے، حفاظتی آلات اور تربیت کی فراہمی اور حادثات کی روک تھام کے لیے مؤثر نگرانی کا نظام قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔ پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن اور آل پاکستان لیبر فیڈریشن کے وفد نے سلطان محمد خان کی قیادت میں بلوچستان کے صوبائی وزیر خزانہ و معدنیات میر شعیب نوشیروانی سے ملاقات کی، جس میں چیف انسپکٹر مائنز محمد عاطف ہزاره بھی موجود تھے۔ وفد میں عبدالستار، آصف شاہ، عجب خان، شاہنواز زہری، محمد اسد، احمر خان اور تجارتی یونینوں کے دیگر نمائندے شامل تھے۔ ملاقات میں بلوچستان کی کانوں میں پیش آنے والے حالیہ اور سابقہ حادثات، کان کنوں کی صحت و سلامتی، حفاظتی اقدامات، کان کنی کے حادثات سے متعلق قوانین اور شہید کان کنوں کے خاندانوں کے لیے حکومتی امداد و معاوضے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مزدور نمائندوں نے حکام کو بتایا کہ بلوچستان میں کان کن اب بھی خطرناک حالات میں کام کر رہے ہیں اور کان کنی کے حادثات کے باعث قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ معدنیات کے شعبے سے وابستہ مزدور ملکی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے ان کی جان و مال کا تحفظ حکومت، کان مالکان اور متعلقہ اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حادثات کے بعد صرف مالی امداد کافی نہیں بلکہ ایسے عملی اقدامات ضروری ہیں جن سے مستقبل میں کان کنی کے حادثات کی روک تھام یقینی بنائی جاسکے۔