اسلام آباد (ویب نیوز): سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کا اجلاس چیئرمین سینیٹر سید مسرور احسن کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں پاکستان آئل سیڈ ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی، مستقبل اور خوردنی تیل کے شعبے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اراکین نے خوردنی تیل کی بڑھتی ہوئی درآمدات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تیل دار اجناس کی مقامی پیداوار میں اضافے اور درآمدی انحصار کم کرنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنانے پر زور دیا۔ حکام نے بتایا کہ پاکستان کا سالانہ خوردنی تیل درآمدی بل 5 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، جبکہ 2020 سے 2026 کے دوران آئل سیڈ پیداوار بڑھانے کے لیے 4 ارب روپے مختص کیے گئے، جس سے قومی معیشت کو تقریباً 364 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔ کمیٹی نے وزارت قومی غذائی تحفظ کو ہدایت کی کہ گزشتہ تین برس کے دوران خوردنی تیل کی درآمدات کی مکمل تفصیلات پیش کی جائیں تاکہ مستقبل کی جامع پالیسی مرتب کی جا سکے، جبکہ مقامی پیداوار میں اضافہ اور غذائی تحفظ کو قومی ترجیح قرار دیا گیا۔
