لاہور (ویب نیوز) سپریم کورٹ نے خواتین کو وراثتی حقوق سے محروم کرنے کے خلاف تاریخی فیصلہ دیتے ہوئے 71 سال بعد بہنوں اور والدہ کو جائیداد میں ان کا قانونی حصہ دینے کا حکم جاری کر دیا۔ جسٹس شاہد بلال حسن کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے قرار دیا کہ وراثت مردوں کی مہربانی نہیں بلکہ ہر وارث کا شرعی اور قانونی حق ہے، جسے جعلی ہبہ، فراڈ، خاندانی دباؤ یا رسم و رواج کی بنیاد پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے 1955 سے جاری تنازع میں ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے متعلقہ ریونیو حکام کو وراثتی ریکارڈ درست کرنے کی ہدایت کی اور واضح کیا کہ خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
