کوئٹہ(ویب ڈیسک) بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کامران ملاخیل نے کہا ہے کہ ہائیکورٹ میں مقدمات کے لیے ون ونڈو سہولت شروع کی جائے گی اور سوشل میڈیا پر مقدمات کی تشہیر کے خلاف بھی حکم جاری کیا جائے گا۔ بلوچستان ہائیکورٹ بار کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان بار ایسوسی ایشن نے ہمیشہ اپنی روایات کا احترام کیا ہے اور انہوں نے نئے عدالتی افسران کو مبارکباد بھی دی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وکلا کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے لیکن قانون کے فارغ التحصیل طلبہ کو صرف ڈگریاں دی جارہی ہیں اور معیاری تعلیم فراہم نہیں کی جارہی، اس لیے وکلا کی تنظیموں کو اس جانب خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ قانون کے کالجز کے تدریسی نظام کا جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ معیاری قانونی تعلیم کو یقینی بنایا جاسکے۔ چیف جسٹس نے بتایا کہ بلوچستان ہائیکورٹ میں ویڈیو لنک کی سہولت بھی فراہم کردی گئی ہے، جس سے دور دراز علاقوں کے سائلین اور وکلا مستفید ہوں گے اور ان کے وقت اور اخراجات میں بھی کمی آئے گی۔ جسٹس کامران ملاخیل نے زور دیا کہ عدالتوں کے احاطوں میں غیر ضروری رش سے گریز کیا جائے کیونکہ ہجوم کے ذریعے ججوں پر دباؤ نہیں ڈالا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ عوام اور سائلین کو تحفظ کا احساس فراہم کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عدالتوں کی سکیورٹی کا دن میں کئی مرتبہ جائزہ لیا جاتا ہے جبکہ پاکستان کے چیف جسٹس بھی جلد کوئٹہ کا دورہ کریں گے۔
