پاکستان ہر سال خوردنی تیل کی درآمد پر اربوں ڈالر خرچ کرتا ہے۔ حکومت نے سورج مکھی، کینولا، ریپ سیڈ، تل اور سویا بین کی پیداوار بڑھانے کے لیے قلیل اور طویل مدتی منصوبہ تیار کیا ہے، جو درآمدی انحصار کم کرنے کی سمت اہم قدم ہے۔ تاہم پاکستان کو اپنی روایتی زرعی زمین کے ساتھ ساحلی وسائل پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ خصوصاً بلوچستان کی طویل ساحلی پٹی میں نمک برداشت کرنے والی سالیکورنیا جیسی تیل دار فصل کی باقاعدہ تحقیق اور آزمائشی کاشت ایک نئے معاشی امکان کا دروازہ کھول سکتی ہے۔ پاکستانی ساحلی علاقوں سے حاصل شدہ سالیکورنیا کے بیجوں میں قابلِ ذکر مقدار میں تیل کی موجودگی بھی تحقیقی مطالعات میں سامنے آچکی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت بلوچستان اور سندھ کے ساحلی علاقوں میں مرحلہ وار سالیکورنیا پائلٹ منصوبے شروع کرے، جہاں سمندری پانی، زمین، پیداوار، تیل کی مقدار، لاگت اور خوراکی معیار کا سائنسی جائزہ لیا جائے۔ کامیاب نتائج کی صورت میں ساحلی زمین کو مقامی آبادی کی شراکت سے زیرِ کاشت لایا جائے اور ساحلی علاقوں ہی میں بیج، تیل نکالنے، پیکنگ اور دیگر متعلقہ صنعتیں قائم کی جائیں۔ اس سے نہ صرف خوردنی تیل کی مقامی پیداوار میں اضافہ ہوسکتا ہے بلکہ ماہی گیری پر زیادہ انحصار رکھنے والی ساحلی آبادی کے لیے روزگار اور آمدن کے نئے ذرائع بھی پیدا ہوں گے۔
پاکستان کے لیے یہ وقت صرف درآمدی بل کم کرنے کا نہیں بلکہ اپنے غیر روایتی وسائل کو معاشی طاقت میں تبدیل کرنے کا ہے۔ اگر سمندر کا پانی اور ساحل کی غیر روایتی زمین جدید تحقیق، مقامی آبادی اور صنعت کے ساتھ جوڑ دی جائے تو ساحلی پٹی محض جغرافیائی سرحد نہیں رہے گی بلکہ خوردنی تیل، روزگار اور مقامی خوشحالی کا نیا مرکز بن سکتی ہے۔ آج جو اربوں ڈالر خوردنی تیل کی درآمد پر بیرونِ ملک جاتے ہیں، ان میں سے ایک بڑا حصہ مستقبل میں ملک کے اندر رہ سکتا ہے—بشرطیکہ تحقیق، منصوبہ بندی اور مقامی لوگوں کی شراکت کو اس منصوبے کی بنیاد بنایا جائے۔
