مقامی ۱۰ اگست ۲۰۲۶

سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کا دفاعی معاہدہ امتِ مسلمہ کے اتحاد کی نئی تاریخ ہے، میر شعیب نوشیروانی

کوئٹہ (ویب نیوز) ــ بلوچستان کے صوبائی وزیر خزانہ و معدنیات میر شعیب نوشیروانی نے کہا ہے کہ مکہ مکرمہ میں سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان طے پانے والا سہ فریقی دفاعی معاہدہ امتِ مسلمہ کے اتحاد کی نئی تاریخ ہے اور تین برادر اسلامی ممالک کے درمیان یہ تاریخی دفاعی تعاون خطے میں امن، استحکام، مشترکہ سلامتی اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون نہ صرف تینوں ممالک کے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا بلکہ خطے کی مجموعی سلامتی اور امتِ مسلمہ کے اتحاد پر بھی مثبت اور دیرپا اثرات مرتب کرے گا۔ میر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ پاکستان کے سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ دیرینہ اور مضبوط تعلقات ہیں اور موجودہ علاقائی صورتحال میں دفاعی تعاون کو وسعت دینا خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق مشترکہ دفاعی تعاون کے ذریعے خطے کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز کا مؤثر مقابلہ کرنے اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ دفاعی معاہدہ صرف دفاعی شعبے تک محدود نہیں بلکہ خطے کے امن، استحکام، اقتصادی ترقی اور باہمی تعلقات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ صوبائی وزیر کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون اسلامی دنیا کے لیے ایک مثبت پیغام ہے اور اس سے اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد، یکجہتی اور باہمی اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔ انہوں نے اس معاہدے کو وزیراعظم پاکستان کی کامیاب سفارت کاری اور پاکستانی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا ثبوت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد اور باہمی تعاون کے لیے مثبت کردار ادا کرتا رہا ہے۔ میر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ پاکستانی مسلح افواج اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، تجربے اور قربانیوں کے باعث دنیا میں ایک منفرد مقام رکھتی ہیں جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی قوم اور سیکیورٹی فورسز نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ ان کے مطابق سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعاون مشترکہ سیکیورٹی نظام کو مزید مضبوط بنانے میں مدد دے گا اور پاکستان کو دفاعی صلاحیت میں اضافے کے ساتھ ساتھ امتِ مسلمہ کے باہمی تعاون کے لیے ایک نیا موقع بھی فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ تینوں ممالک کے درمیان مشترکہ مفادات اور دفاعی تعاون کے مزید فروغ کی توقع ہے جس سے خطے میں امن و استحکام کے امکانات مزید بڑھیں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہر ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے پائیدار امن اور مستحکم سیکیورٹی ماحول بنیادی ضرورت ہے اور اگر خطے میں امن و استحکام قائم ہو تو تجارت، سرمایہ کاری، صنعت، کان کنی، انفراسٹرکچر اور دیگر شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ بلوچستان کے حوالے سے صوبائی وزیر نے کہا کہ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں صوبائی حکومت خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنی ذمہ داریاں بھرپور طریقے سے ادا کر رہی ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ پاکستان اور برادر اسلامی ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کے ثمرات بلوچستان کے عوام تک بھی پہنچیں۔ میر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ بلوچستان جغرافیائی اعتبار سے خصوصی اہمیت کا حامل ہے اور صوبے کے معدنی وسائل، قدرتی دولت اور دیگر معاشی امکانات اسے خطے میں خصوصی اقتصادی اہمیت دے سکتے ہیں۔ ان کے مطابق امن و استحکام میں بہتری کے ساتھ بلوچستان میں سرمایہ کاری اور ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور عوام کے لیے روزگار اور معاشی ترقی کے امکانات بڑھیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ علاقائی تعاون کے نئے مواقع کے ساتھ BSDI کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کو بھی مزید تقویت دی جا سکتی ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کو اقتصادی، تجارتی، دفاعی اور سفارتی شعبوں میں اپنے تعلقات مزید وسعت دینی چاہیے اور تینوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد اور مشترکہ مفادات مستقبل میں مضبوط تعاون کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ تاریخی دفاعی تعاون مستقبل میں دیگر شعبوں تک بھی پھیلے گا اور تینوں ممالک باہمی مفادات، امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے۔