تحریر: سید انور شاہ
سرداری اور جاگیرداری نظام کا خاتمہ پاکستان کی سیاسی، معاشی اور سماجی تاریخ کا ایک اہم سوال ہے۔ اگر وفاقی حکومت اس نظام کے خاتمے کے لیے کوئی مؤثر فیصلہ کرتی ہے تو یہ یقیناً ایک تاریخی قدم ہوسکتا ہے، لیکن اصل اہمیت اعلان یا قانون سازی کی نہیں بلکہ اس کے عملی نفاذ کی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں 1976ء میں سرداری نظام کے خلاف قانون سازی کی گئی، مگر اس کے باوجود قبائلی، جاگیردارانہ اور بااثر خاندانی ڈھانچے مختلف صورتوں میں برقرار رہے۔ اس سے یہ بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر قانون پہلے سے موجود ہے تو اس پر عمل درآمد کیوں نہیں ہوسکا، اور کیا ایک نئی قرارداد اس مسئلے کا حل بن سکتی ہے؟ کسی بھی خاندان یا طبقے کی زمینوں اور اثاثوں کے بارے میں غیر مصدقہ اعدادوشمار پیش کرنے کے بجائے ضروری ہے کہ شفاف ریکارڈ، قابلِ اعتماد اعدادوشمار اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی بنیاد پر حقائق سامنے لائے جائیں۔ اصلاحات کا آغاز بااثر خاندانوں سمیت ہر اس فرد اور ادارے سے ہونا چاہیے جو قانون سے بالاتر ہونے کا تاثر دیتا ہے۔ مقصد کسی مخصوص طبقے کو نشانہ بنانا نہیں، بلکہ ایسا نظام قائم کرنا ہے جس میں قانون سب کے لیے یکساں ہو، زمین کی ملکیت شفاف ہو، شہریوں کو تعلیم، انصاف اور معاشی ترقی کے برابر مواقع میسر ہوں اور کسی شخص کو محض خاندانی حیثیت یا سیاسی اثرورسوخ کی بنیاد پر دوسروں کے حقوق پامال کرنے کی اجازت نہ ہو۔
بلوچستان اسمبلی میں جماعتِ اسلامی کے رکن کی جانب سے سرداری نظام کے خلاف قرارداد یا قانونی اقدام کی تجویز اپنی جگہ اہم ہے، لیکن جماعت کی قیادت کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ پہلے سے موجود قانون پر عمل درآمد میں رکاوٹیں کیا ہیں۔ اگر ان رکاوٹوں کی نشاندہی کیے بغیر نئی قرارداد پیش کی جائے تو اس سے مسئلے کا عملی حل نکلنے کے بجائے سیاسی تشہیر کا تاثر پیدا ہوسکتا ہے۔ ماضی میں جماعتِ اسلامی کے ایک صوبائی اسمبلی رکن کی جانب سے مبینہ طور پر سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر سوال اٹھانے کا واقعہ بھی سامنے آیا تھا، جس کے ایسے منفی اثرات مرتب ہوئے جنہیں متعلقہ شعبے نے طویل عرصے تک محسوس کیا۔ یہ مثال یاد دلاتی ہے کہ پارلیمان میں اٹھایا جانے والا ہر سوال تحقیق، مستند معلومات اور ممکنہ نتائج کے جائزے کے بعد ہی سامنے آنا چاہیے۔ اسی طرح تمام سرداروں کو ایک ہی نظر سے دیکھنا بھی درست نہیں؛ ہر طبقے میں اچھے اور برے کردار موجود ہوتے ہیں۔ کسی شخص یا جماعت کا حقیقی معیار اس کا نام، لقب یا دعویٰ نہیں بلکہ اس کے اعمال، عوام کے ساتھ رویہ اور قانون کے سامنے جواب دہی ہے۔ یہی اصول سیاسی جماعتوں، سرکاری عہدیداروں، بڑے زمینداروں اور صنعت کاروں پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔ ملک کے مختلف صوبوں میں بااثر معاشی گروہوں کے سیاسی فیصلوں، منڈیوں اور حکومتی پالیسیوں پر اثرانداز ہونے کے خدشات موجود ہیں۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر غیر منصفانہ گرفت، سیاسی مالی معاونت میں عدم شفافیت اور اقتدار کے حصول یا حکومتوں کے خاتمے میں پسِ پردہ اثرورسوخ جیسے معاملات کی تحقیقات شواہد کی بنیاد پر ہونی چاہییں۔ عوامی حلقوں میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ بعض اوقات سیاسی منظرنامے میں نظر آنے والے کرداروں کے پیچھے مزید طاقت ور حلقے موجود ہوتے ہیں؛ گویا ملک میں کٹھ پتلیوں کے بھی کٹھ پتلیاں ہوتی ہیں۔ اس تاثر کا جواب محض تردید یا الزام سے نہیں، بلکہ شفاف سیاسی مالیات، مضبوط اداروں، آزادانہ احتساب اور قانون کی بالادستی سے دیا جاسکتا ہے۔
پاکستان اس وقت سیاسی، معاشی اور سماجی تبدیلی کے ایک اہم مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ایسی تبدیلی کو پُرامن، منصفانہ اور عوام دوست بنانے کے لیے محاذ آرائی کے بجائے وسیع مکالمے کی ضرورت ہے، جس میں ریاستی اختیار رکھنے والے حلقے، سیاسی و قبائلی قیادت، دانشور، سول سوسائٹی اور عام شہری شریک ہوں۔ موجودہ اسمبلیوں سے یہ توقع رکھنا کہ وہ تنہا اس پیچیدہ مسئلے کا مکمل حل نکال لیں گی، شاید خوش خیالی ہو؛ اس لیے عوام سے براہِ راست رابطہ، سنجیدہ مشاورت اور اصلاحات کے لیے مشترکہ قومی و صوبائی لائحۂ عمل ناگزیر ہے۔ جماعتِ اسلامی کی قیادت کو بھی چاہیے کہ وہ قرارداد پیش کرنے سے پہلے قانونی ماہرین، سماجی رہنماؤں، قبائلی علاقوں کے نمائندوں اور متاثرہ آبادیوں سے مشاورت کرے، ممکنہ مثبت و منفی نتائج کا جائزہ لے اور محض نعرے کے بجائے قابلِ عمل تجاویز سامنے لائے۔ بلوچستان کے بعض علاقوں میں قبائلی قیادت ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون بھی کرتی ہے، اس لیے اصلاحات اس انداز میں ہونی چاہییں کہ قانون کی بالادستی قائم ہو، عوام کے حقوق محفوظ رہیں اور کسی علاقے میں انتظامی خلا یا غیر ضروری تصادم پیدا نہ ہو۔ سرداری نظام کے خاتمے کا حقیقی مطلب صرف کسی لقب یا روایت کو ختم کرنا نہیں، بلکہ طاقت کے غیر منصفانہ ارتکاز، معاشی اجارہ داری، سیاسی سرپرستی اور قانون سے بالاتر ہونے کے رویے کا خاتمہ ہے۔ جب تک موجودہ قوانین پر یکساں عمل درآمد، زمین اور سیاسی مالیات کا شفاف ریکارڈ، مؤثر احتساب اور عوامی اعتماد بحال نہیں ہوتا، محض نئی قراردادیں بنیادی تبدیلی نہیں لاسکتیں۔ نظام نعروں سے نہیں، دیانت دارانہ مکالمے، مضبوط اداروں، شفاف قانون سازی اور قانون کے بلاامتیاز نفاذ سے بدلتے ہیں۔ یہی راستہ پاکستان اور بلوچستان میں ایک پُرامن، منصفانہ اور حقیقی معنوں میں عوام دوست تبدیلی کی بنیاد بن سکتا ہے۔
