انٹرٹینمنٹ ۲۵ اکتوبر ۲۰۲۶

سازگار کاروباری ماحول کے دعوے اور بلوچستان میں سرمایہ کاری کی عملی ضرورت

تحریر: سید انور شاہ

وزیراعظم شہباز شریف نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر علی حسام اصغر سے ملاقات کے دوران کہا ہے کہ حکومت نجی شعبے کے اشتراک سے معاشی سرگرمیوں کے فروغ اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ وزیراعظم نے صنعتوں کو درپیش مسائل، برآمدات میں اضافے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور تجارتی سرگرمیوں کو وسعت دینے کی اہمیت پر زور دیا، جبکہ کاروباری برادری کی تجاویز کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی بھی قائم کی۔ بلاشبہ کاروبار دوست ماحول، سرمایہ کاروں کا اعتماد اور نجی شعبے کی حوصلہ افزائی معاشی ترقی کے بنیادی تقاضے ہیں، لیکن ان پالیسی اعلانات کی اصل کامیابی کا اندازہ اس وقت ہوگا جب ملک کے پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں بھی سرمایہ کاری کے لیے عملی سہولتیں، آسان مالیاتی ذرائع اور بنیادی ڈھانچہ فراہم کیا جائے گا۔
بلوچستان، بالخصوص کوئٹہ اور اس کے گردونواح میں زراعت، لائیوسٹاک اور ڈیری کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ مقامی سطح پر دودھ کی پیداوار، محفوظ ذخیرہ، کولنگ، پیکنگ اور اس سے دہی، پنیر، مکھن اور دیسی گھی جیسی مصنوعات کی تیاری نہ صرف کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دے سکتی ہے بلکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، مقامی پیداوار کی قدر بڑھانے اور شہریوں کو معیاری خوراک فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے کوئٹہ ویسٹ میں اپنی پانچ ایکڑ سے زائد ملکیتی زرعی زمین پر جدید ڈیری فارم اور دودھ کی کولنگ، پیکنگ اور ویلیو ایڈیشن یونٹ قائم کرنے کا منصوبہ ایک عملی مثال ہے۔ ابتدائی مرحلے میں تقریباً ایک سو جانوروں پر مشتمل فارم قائم کرکے، چارے کی مقامی پیداوار، سیلاج، سولر توانائی اور دودھ کی محفوظ ترسیل کے نظام کو فروغ دیا جا سکتا ہے، جبکہ مناسب انتظام اور مالی وسائل کی دستیابی کے ساتھ مستقبل میں اس منصوبے کو مزید وسعت بھی دی جا سکتی ہے۔
تاہم ایسے منصوبے محض ارادے اور زمین کی ملکیت سے کامیاب نہیں ہوتے؛ ان کے لیے مناسب سرمایہ، فنی رہنمائی، قابلِ اعتماد پانی و توانائی، جانوروں کی صحت، متوازن خوراک، سرد زنجیر اور منڈی تک رسائی ضروری ہے۔ اگر کوئی مقامی سرمایہ کار اپنی زمین اور ذاتی سرمایہ کاروبار میں لگانے کے لیے تیار ہو، لیکن مشینری، جانوروں اور پیداواری نظام کے لیے درکار مالی وسائل تک آسان رسائی نہ رکھتا ہو تو کاروبار دوست پالیسیوں کے دعووں کو عملی شکل دینا مشکل ہو جاتا ہے۔ اسلامی بینکاری کے تحت زرعی و ڈیری فنانسنگ، مشینری کی خریداری اور ورکنگ کیپیٹل کے لیے شفاف اور قابلِ عمل سہولتیں فراہم کرکے ایسے منصوبوں کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ البتہ فنانسنگ کی شرائط، شرح، مدت اور ادائیگی کا شیڈول منصوبے کی حقیقی پیداواری صلاحیت، اخراجات اور بینک کی جانچ پڑتال کے مطابق طے ہونا چاہیے، تاکہ سرمایہ کار غیر حقیقی توقعات کے بجائے پائیدار کاروبار کی بنیاد رکھ سکے۔
حکومت اگر واقعی نجی شعبے کے ساتھ مل کر معاشی سرگرمیوں کو وسعت دینا چاہتی ہے تو اسے بڑے شہروں اور بڑے سرمایہ کاروں تک محدود رہنے کے بجائے بلوچستان کے مقامی کاروباری افراد، زمینداروں، نوجوانوں اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا۔ ڈیری فارم جیسے منصوبوں کے لیے بینکوں، محکمہ زراعت، لائیوسٹاک کے اداروں اور متعلقہ مالیاتی اسکیموں کے درمیان مؤثر رابطہ قائم کیا جائے، فزیبلٹی کی تیاری میں فنی معاونت دی جائے اور قرض کی فراہمی کے عمل کو غیر ضروری پیچیدگیوں سے پاک کیا جائے۔ ساتھ ہی دودھ کے معیار کی جانچ، کولڈ اسٹوریج، مقامی منڈیوں تک رسائی اور چھوٹے پروڈیوسروں کے تحفظ کے لیے بھی عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
معاشی ترقی صرف بیانات، اجلاسوں اور کمیٹیوں کے قیام سے حاصل نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لیے ایسی پالیسیاں درکار ہیں جن کے ثمرات عام شہری اور مقامی سرمایہ کار تک پہنچیں۔ کوئٹہ ویسٹ میں ڈیری فارم اور دودھ کی ویلیو ایڈیشن کا مجوزہ منصوبہ اس امر کی مثال بن سکتا ہے کہ اگر مقامی وسائل، ذاتی سرمایہ کاری، اسلامی مالیاتی سہولتوں اور حکومتی معاونت کو یکجا کیا جائے تو بلوچستان میں روزگار، خوراک کی فراہمی اور دیہی معیشت کو مضبوط بنانے کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت کے کاروبار دوست ہونے کا دعویٰ عملی اقدامات میں نظر آئے اور ایسے قابلِ عمل منصوبوں کو محض فائلوں تک محدود رکھنے کے بجائے ان کی تکمیل کے لیے حقیقی سہولتیں فراہم کی جائیں۔