زیارت (ویب نیوز) ــ بلوچستان کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی جانب سے مشتبہ مسلح افراد کی دوبارہ نقل و حرکت اور بعض علاقوں میں ان کی ممکنہ موجودگی کی اطلاعات کے بعد ضلع زیارت میں سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔ سی ٹی ڈی کی اطلاعات کی بنیاد پر ضلع زیارت کے پولیس سربراہ عبدالمالک درانی نے زیارت اور سنجاوی کے ڈی ایس پیز/ایس ڈی پی اوز اور ضلع بھر کے تمام ایس ایچ اوز کو خصوصی مراسلہ ارسال کرتے ہوئے غیر معمولی تیاری، نگرانی اور سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کرنے کی ہدایت کی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق سی ٹی ڈی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مشتبہ افراد تقریباً ایک ہفتے تک بعض اہم سڑکوں اور راستوں کے اطراف نظر نہیں آئے تھے، تاہم گزشتہ روز ان کی دوبارہ موجودگی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مشتبہ افراد کو سمل زئی کے علاقے میں دیکھا گیا اور متعلقہ پولیس حکام کو صورتحال پر کڑی نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ افراد ایک مقامی دکان پر بھی گئے اور کچھ اشیاء خریدیں، بعد ازاں انہوں نے علاقے سے گزرنے والے بعض افراد کو روک کر ان کے شناختی کارڈز اور موبائل فونز چیک کیے اور انہیں جانے کی اجازت دے دی۔ سی ٹی ڈی کی اطلاعات کے مطابق ساسٹہ تنگی کے علاقے میں ایک اسکول کے قریب بھی چار مسلح افراد کو دیکھا گیا جو علاقے میں گھوم رہے تھے اور کچھ وقت اردگرد کے علاقوں میں موجود رہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ افراد شام تقریباً چھ بجے سمل زئی کے گردونواح میں واپس آئے۔ مشتبہ افراد کی مسلسل نقل و حرکت اور مختلف علاقوں میں ممکنہ موجودگی کے باعث مقامی آبادی میں خوف و تشویش بھی بڑھ گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کلی زئی، سپین ماغزی اور تور سخر کے رہائشی ان افراد کی ممکنہ موجودگی کے باعث اپنے خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے پر بھی غور کر رہے ہیں۔ پولیس نے کہا ہے کہ مشتبہ افراد کی نقل و حرکت سے متعلق موصول ہونے والی اطلاعات کی سنجیدگی سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور متعلقہ پولیس افسران کو اپنے علاقوں میں غیر معمولی سرگرمیوں کی کڑی نگرانی کی ہدایت کی گئی ہے۔ زیارت کے پولیس سربراہ عبدالمالک درانی نے مراسلے میں متعلقہ افسران سے کہا ہے کہ اپنے دائرہ اختیار میں ضروری سیکیورٹی اور احتیاطی اقدامات کیے جائیں اور کیے گئے اقدامات کی رپورٹ مقررہ وقت پر اعلیٰ حکام کو پیش کی جائے۔ پولیس کے مطابق حساس علاقوں میں گشت، نگرانی اور مشکوک سرگرمیوں کی مانیٹرنگ مزید بڑھائی جا رہی ہے اور کسی بھی مشتبہ شخص یا سرگرمی کی اطلاع ملنے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو آگاہ کیا جائے۔ پولیس ذرائع کے مطابق ان اقدامات کا مقصد ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاری اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی روک تھام کے لیے سیکیورٹی انتظامات کو مؤثر بنانا ہے۔
